لندن (این این آئی)برطانیہ میں سیاسی پناہ (اسائلم) کیلئے 2024 میں مجموعی طور پر سیاسی پناہ کیلئے تقریباً 40000 درخواستیں جمع ہوئیں جن میں سے 11,000 سے زائد پاکستانی شہریوں نے دیں جو کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جن درخواستوں میں ”جنسی رجحان” (ایل جی بی ٹی کیو) کو بطور جواز پیش کیا گیا، ان میں بھی پاکستانی شہری سر فہرست رہے، اس نوعیت کی درخواستوں میں پاکستانیوں نے سب سے زیادہ حصّہ لیا باوجود اس کے کہ وہ مجموعی طور پر تمام پناہ گزینوں میں چوتھے نمبر پر تھے۔برطانیہ کے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں سیاسی پناہ کی درخواستوں میں 1377 درخواستیں جنسی رجحان کی بنیاد پر دی گئیں جو کہ کْل سیاسی پناہ کی درخواستوں کا 2 فی صد تھیں، جن میں جنسی رجحان کو جزوِ دعویٰ بنایا گیا، اْن میں تقریباً 42 فی صد (578 درخواستیں) پاکستانی شہریوں کی تھیں یعنی ایل جی بی ٹی کیو پر مبنی مجموعی دعوؤں میں پاکستان کی سب سے بڑی نمائندگی رہی۔یہ اعداد و شمار صرف وہ کیسز ہیں جن میں جنسی رجحان کو دعوے کا حصہ بتایا گیا مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر درخواست گزار واقعی ایل جی بی ٹی کیو شناخت رکھتا ہے یا اس کا دعویٰ تسلیم کر لیا گیا ہے۔
برطانوی وزارت داخلہ نے پاکستان کے حوالے سے کنٹری پالیسی اینڈ انفارمیشن نوٹس میں واضح کیا کہ کوئی بھی شخص اگر اپنی جنسی شناخت یا رجحان کی وجہ سے پاکستان میں حقیقی خطرے کا شکار ہو سکتا ہے، تو وہ پناہ کیلئے دعویٰ کر سکتا ہے، شرط یہ ہے کہ کیس کے حقائق خود اس کے دعوے کی تائید کریں تاہم پالیسی بھی یہ واضح کرتی ہے کہ ہر دعوے کو فرد کے انفرادی حالات کے تناظر میں پرکھا جاتا ہے اور صرف دعویٰ کرنا کافی نہیں ہوتا، ثبوت اور حقیقی خطرے کے شواہد درکار ہوتے ہیں۔















































