اسلا م آباد(نیوز ڈیسک )سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پہلی مرتبہ ایک دم دار ستارے پر پیچیدہ نامیاتی مرکبات کا سراغ ملا ہے۔ یہ وہ مرکبات ہیں، جو زندگی کے آغاز کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ گزشتہ روز اس غیر متوقع اور زندگی کے آغاز کے اعتبار سے انتہائی اہم دریافت کا اعلان ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں کیا گیا۔ ”سائنس ایڈوانسز“ نامی اس سائنسی جریدے میں بتایا گیا ہے کہ دم دار ستارے ”لوجوائے“ سے ایتھائل الکوحل اور گلوکوز کی سادہ قسم ’گلائکول ایلڈیہائڈ‘ کا سراغ ملا ہے۔ اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق، ”یہ پیچیدہ نامیاتی مالیکیول اسی چٹانی مادے کا حصہ معلوم ہوتے ہیں، جس سے سیارے بنے ہیں۔“ اس سے قبل بھی متعدد دم دار ستاروں اور فضائی چٹانوں پر مختلف نامیاتی مرکبات کے مالیکیولز مل چکے ہیں۔ حال ہی میں دم دار ستارے ”67 پی شوریموو“ پر متعدد نامیاتی مالیکیولز کا سراغ ملا تھا۔ اس دم دار ستارے پر یورپی خلائی ایجنسی نے فیلے نامی خلائی گاڑی اتاری تھی۔ اس دم دار ستارے پر چار ایسے مالیکیولز بھی ملے تھے، جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔ تحقیقی رپورٹ کے مطابق چوں کہ دم دار ستارے نظام شمسی کے سب سے قدیم اور انتہائی غیر ارتقائی شکل کے مادوں سے مزین ہوتے ہیں، اس لیے سائنس دان انہیں ٹائم کیپسول یا ’وقت کے جامد حصے‘ بھی کہتے ہیں اور انہی کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ نظام شمسی کی تخلیق کے بعد چار اعشاریہ چھ ارب سال پہلے کیا کچھ تھا اور کیسا تھا۔ واضح رہے کہ زمین کی تخلیق کا وقت بھی ساڑھے چار ارب سال پہلے کا عرصہ قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم یہ تحقیقی رپورٹ بھی یہ واضح کرنے میں ناکام ہے کہ کیا واقعی زمین پر زندگی کے لیے ضروری مادوں کو لانے والے یہی دم دار ستارے تھے اور کیا انہی کی وجہ سے زمین پر زندگی نے نمو پائی اور ارتقائ اسے انسان اور دیگر حیوانات اور نباتات تک لے گیا؟ فرانسیسی قومی مرکز برائے سائنسی تحقیق سے وابستہ ماہر فلکیات اور اس تحقیقی رپورٹ کی معاون مصنف ڈومینیک بوکیلی مورواں کہتی ہیں، ”یہ رپورٹ یہ تو نہیں بتاتی کہ زندگی کے لیے ضروری مرکبات زمین تک پہنچانے کے ذمہ دار یہ دم دار ستارے ہی ہیں یا نہیں تاہم اس تحقیق سے ہمارے علم میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔“ ان کا مزید کہنا ہے، ”ایسے اہم اور پیچیدہ نامیاتی مالیکیولز کی کومٹ کے مواد میں موجودگی، ہمارے سیارے پر زندگی کی ابتدا اور اس وقت کے حالات کو سمجھنے کی جانب ایک انتہائی اہم قدم ہے۔“ انہوں نے کہا کہ ان مشاہدات سے یہ ممکنہ وضاحت ملتی ہے کہ زمین پر زندگی کی ابتدا کس طرح ہوئی ہو گی۔ لوجوائے نامی خلائی چٹان اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ زمینی مدار کے قریب موجود دم دار ستاروں میں سے سب سے زیادہ متحرک ہے۔ اس دم دار ستارے کا مطالعہ ہسپانوی علاقے سیرا نیوادا میں نصب ایک تیس میٹر لمبی دوربین کے ذریعے رواں برس جنوری سے کیا جا رہا تھا۔
دم دار ستارے پر الکوحل اور گلوکوز کی دریافت
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
راولپنڈی،ہوٹل میں متعدد بار زیادتی کے بعد خاتون حاملہ، پیدا ہونے والی بچی بھی چھین لی گئی
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
قیامت خیز گرمی سے 9 افراد جاں بحق، 2 روز میں اموات 19 ہوگئیں



















































