بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ایک ملک کیخلاف جارحیت دونوں ملکوں کیخلاف جارحیت تصور ہو گی، پاکستان ، سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ طے

datetime 18  ستمبر‬‮  2025 |

ریاض(این این آئی)پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دارالحکومت ریاض میں باہمی دفاعی معاہدہ ہوگیا۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین “اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے” (SMDA) معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ جو دونوں ممالک کی اپنی سلامتی کو بڑھانے اور خطے اور دنیا میں سلامتی اور امن کے حصول کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے میں کہا گیا کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ سعودی عرب اور پاکستان کی 8 دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری ہے، دونوں ممالک میں مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون کے تناظر میں معاہدہ ہوا، معاہدہ دونوں ممالک کی سلامتی کو بڑھانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، معاہدہ خطے اور دنیا میں امن کے حصول کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

معاہدہ پاک سعودی اسٹرٹیجک شراکت داری کی گہرائی اور دفاعی تعاون کی مضبوطی کو ثابت کرتا ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معاہدے کی کامیابی میں کلیدی کردارادا کیا اور معاہدے سے پاکستان اب حرمین شریفین کے تحفظ میں سعودی عرب کا پارٹنر بن گیا۔اعلامیے کے مطابق موجودہ اور متوقع خطرات و چیلنجز کے تناظر میں یہ معاہدہ دفاع کو مضبوط بنائے گا اور دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کی تیاری اور انضمام کو بڑھائے گا، معاہدے سے دونوں ممالک کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو لاحق کسی بھی خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔معاہدے کی شقوں کے تحت کسی بھی ملک پر بیرونی مسلح حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، معاہدے پر دستخط دونوں ممالک کے گہرے دوطرفہ تعلقات اور سکیورٹی تعاون کی توثیق کرتے ہیں، معاہدہ دہائیوں سے مشترکہ فوجی تربیت، کثیر الجہتی مشقوں اور دفاعی صنعتی تعاون کو ظاہر کرتا ہے اور معاہدہ امن کے فروغ اور علاقائی و عالمی سلامتی کو مستحکم کرنے کے مشترکہ مقاصد کو پورا کرتا ہے۔

پاک سعودی دفاعی معاہدہ دونوں کے لیے سکیورٹی، معیشت اور سفارت کاری میں انتہائی فائدہ مند ہے، معاہدے کے تحت دونوں ممالک کسی بھی خطرے سے مشترکہ طور پر نمٹیں گے اور معاہدیکے تحت اپنے دفاع کیلیے ایک ملک کی طاقت دوسرے ملک کے دفاع کیلیے موجود ہوگی۔اعلامیے کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے ال یمامہ پیلس میں وزیر اعظم کا استقبال کیا اور دونوں ممالک کے وفود کی موجودگی میں مذاکرات کا باضابطہ اجلاس ہوا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات کا جائزہ لیا، فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ دلچسپی کے متعدد موضوعات کا جائزہ لیا۔قبل ازیںوزیراعظم سعودی ولی عہد سے ملاقات کیلئے قصر یمامہ پہنچے تو ان کا روایتی انداز میں پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ گھڑ سواروں کے دستے نے شاہی پروٹوکول کے ساتھ وزیراعظم پاکستان کو خوش آمدید کہا۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو خوش آمدید کہا۔سعودی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک دوسرے سے اپنے وفود کا تعارف کروایا۔اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا، سعودی ولی عہد نے وزیرِ اعظم کی اچھی صحت اور عوام کی خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔وزیراعظم کے ہمراہ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا خواجہ محمد آصف، عطا اللہ تارڑ، محمد اورنگزیب، ڈاکٹر مصدق ملک اور معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…