منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

آپریشن مہادیو، بی جے پی کی پہلگام حملے کے اصل حقائق سے توجہ ہٹانے کی نئی چال

datetime 31  جولائی  2025 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی حکومت کی جانب سے پہلگام حملے کے بعد اچانک آپریشن مہادیو کا آغاز کیا گیا ہے جو اصل حقائق سے توجہ ہٹانے کی ایک چال قرار دیا جارہا ہے۔پہلگام حملے پر 100 دن کی طویل خاموشی کے بعد بھارتی حکومت نے اس مبینہ آپریشن کا آغاز کیا، جس کا مقصد عوامی غصے اور سیاسی دبا سے بچنا بتایا جا رہا ہے۔لوک سبھا میں بحث کے دوران بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے دعوی کیا کہ پہلگام حملے میں ملوث تین مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ تاہم ایوان میں اپوزیشن جماعتوں کے مختلف رہنمائوں نے اس اعلان پر سخت تنقید کی اور اسے ایک فیک انکانٹر قرار دیا جو مودی حکومت کی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔تنقید کرنے والوں کا کہناتھا کہ مودی حکومت نے اس آپریشن کو مہادیو جیسے مذہبی عنوان سے منسوب کرکے ہندوتوا جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی، جو درحقیقت عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی ناکام کوشش ہے۔

تین مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کو مودی سرکار کے لیے سیاسی ریلیف کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، جبکہ خود وزیرِاعظم نریندر مودی پہلگام حملے کے متاثرہ خاندانوں سے ملنے کی زحمت تک گوارا نہیں کر سکے۔اس حملے پر بھارتی انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی بھی واضح ہو گئی ہے۔ اگر حکومت کے پاس حملے کی پیشگی اطلاع تھی، تو دہشت گرد اتنے حساس علاقے پہلگام تک کیسے پہنچے؟ سیٹلائٹ نگرانی کے دعووں کے باوجود چند دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا نہ پکڑا جانا، سیکیورٹی نظام پر سوالات اٹھاتا ہے۔پہلگام جیسے حساس سیاحتی مقام پر دہشت گردوں کا باآسانی داخل ہونا اور حملہ کرنے میں کامیاب ہونا بھارتی انٹیلی جنس کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، حملے کے فورا بعد بھی کوئی موثر رسپانس نہ دینا، سیکیورٹی اداروں کی تیاری پر سوالیہ نشان ہے۔مودی سرکار ایک بار پھر من گھڑت بیانیہ سازی اور جذباتی نعروں کے ذریعے قوم کو گمراہ کرنے میں مصروف ہے، جبکہ پہلگام حملے کے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ آپریشن مہادیو ہو یا اس سے قبل کا آپریشن سندور، مودی حکومت ہندوتوا نظریے کے تحت انتہا پسندی کو فروغ دینے اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کی مذموم کوششیں کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…