ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

datetime 30  جولائی  2025 |

کراچی (این این آئی)گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں آئندہ 2 ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا۔گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے شرح سود برقرار رکھنے کے اسباب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال ہماری مہنگائی کی شرح 4.5 فیصد رہی جو کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کے مقرر کردہ ہدف سے معمولی کم تھی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال خوردنی اشیا کی مہنگائی میں بڑی کمی آئی، اس کے ساتھ ساتھ بنیادی مہنگائی کی مجموعی شرح میں بھی آہستہ آہستہ کمی آئی، گزشتہ ماہ جون میں مہنگائی کی بنیادی شرح 7.5 فیصد پر آگئی، اسی طرح پچھلے ماہ جون میں مجموعی مہنگائی کی شرح 3.2 فیصد تھی۔

انہوں نے کہا کہ اپریل میں مہنگائی مجموعی شرح 0.3 فیصد کی کم ترین سطح پر آکر بڑھنا شروع ہوگئی اور پچھلے 2 ماہ میں مہنگائی کی مجموعی شرح میں اضافہ ہوا ہے، آئندہ سال کی ابتدا میں بھی مہنگائی کی مجموعی شرح میں پہلے کم پھر زیادہ اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ توانائی کی قیمتوں میں کچھ کم ردو بدل ہوا ہے اور آگے چل کر اس کے بنیادی اثرات سازگار نہیں رہیں گے، اور اس کے اثرات اگلے سال سامنے آئیں گے، اس کے علاوہ کمیٹی نے بیرونی کھاتوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور تو ان عوامل کو دیکھتے ہوئے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہاکہ بیرونی کھاتوں کا خاص طور پر جائزہ لیا گیا، گزشتہ مالی درآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، مالی سال 2024 میں 53 ارب ڈالر کی درآمدات تھیں، جو 2025 میں11.1 فیصد اضافے سے 59.1 ارب ڈالر ہوگئیں۔انہوں نے کہا کہ تیل کے علاوہ درآمدات میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے تو تیل کے شعبے کے علاوہ دیگر شعبوں کی درآمدات بھی بڑھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں شرح نمو 2.7 فیصد رہی، رواں مالی سال میں زرعی شعبہ بہتر ہونے سے نمو بڑھے گی، موجود مالی سال میں مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔جمیل احمد نے کہا کہ گزشتہ سال برآمدات 4 فیصد سے تھوڑی اوپر بڑھی ہیں جو کہ کم تھیں اور ان میں اضافہ ہونا چاہیے تھا، تاکہ تجارتی خسارہ کم ہوسکے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ گزشتہ سال ترسیلات زر میں بہت اچھا ہوا ہے جو کہ 38.3 ارب ڈالر رہیں، جو کہ اس سے پچھلے سال تقریباً 30 ارب ڈالر تھیں اور ان میں تقریباً 8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ترسیلات زر میں اضافے کے کئی عوامل ہیں لیکن بنیادی عنصر یہ ہے کہ بہت سی ترسیلات غیر رسمی ذرائع سے آرہی تھیں جو کہ اب رسمی ذرائع سے آرہی ہیں، حکومتی فوائد کی اسکیم کے علاوہ انٹربینک اور ایکسچیج کمپنیوں نے بھی اس اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ترسیلات زر میں اضافے کے نتیجے میں ہی گزشتہ مال سال کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا ہے، انہوں نے کہاکہ 2022 میں کرنٹ اکاؤنٹس خسارہ جی ڈی پی کے مقابلے میں 4.7 فیصد تھا، ہمارے اقدامات کے نتیجے میں 2023 میں یہ جی ڈی پی کے تقریباً ایک فیصد پر آگیا، 2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے مقابلے میں تقریباً نصف فیصد تھا اور گزشتہ مالی ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے بجائے سرپلس پر ختم ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس آیا ہے جوکہ پچھلے 22 سال کا بلندترین سرپلس ہے، اسی کی وجہ سے ہمارے بیرونی کھاتوں میں استحکام آیا ہے اور اسٹیٹ بینک نے انٹربینک مارکیٹ میں سرگرمی کی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثر آیا ہے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال ہم نے قرضوں کی تمام ادائیگیاں بروقت کیں اس کے باوجود ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، جو کہ پچھلے سال کے 9.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر اس 14.5 ارب ڈالر کے ہوگئے تھے اور اس میں ایک سال کے دوران تقریباً 5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پچھلے سال ہم نے 26 ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں کرنی تھیں جن میں سے خاصی موخر ہوئیں، پھر بھی ہم نے تقریباً 10 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی ہیں لیکن اس سب کے باوجود ہمارے ذخائر میں 5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور اسی کا ہمارے کرنٹ اکاؤنٹ پر مثبت اثر پڑا۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ مالی سال زرعی شعبے کی نمو 0.6 فیصد خاصی کم رہی، رواں مالی سال میں زرعی شعبہ بہتر ہونے سے نمو بڑھے گی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قومی پیداوار کے صفر سے ایک فیصد رہے گا، بارشوں اور پانی کی دستیابی بہتر ہونے سے زرعی شعبہ بہتر کارکردگی دکھائے گا۔انہوںنے کہاکہ حکومت کا قرض 2022 سے 100 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جبکہ 2015 سے 2022 کے دوران حکومت قرض 55 ارب ڈالر سے بڑھ کر 100 ارب ڈالر ہوا تھا،انہوں نے کہاکہ قرضوں کی ادائیگی کا دورانیہ بڑھا ہے، ہمارے زرمبادلہ ذخائر بڑھ رہے ہیں اور قرض برقرار ہے، ریٹنگ ایجنسیوں نے ہماری ریٹنگ بڑھائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…