منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

دیامر میں ایمرجنسی نافذ، ہلاکتوں کی تعداد 5 ہوگئی، ریسکیو کارروائیاں جاری، 200 سیاح محفوظ مقام پر منتقل

datetime 22  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)گلگت بلتستان کے علاقے بابوسر ٹاپ پر شدید بارشوں کے بعد آنے والے اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) نے تباہی مچا دی۔ جیو نیوز کے مطابق اس قدرتی آفت کے نتیجے میں کئی سیاح لاپتہ ہو گئے، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ مقامی افراد نے بھی ریسکیو کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور متعدد افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ڈپٹی کمشنر دیامر کے مطابق، گزشتہ روز ہونے والے کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں بابوسر کے مقام پر شدید سیلاب آیا جس نے متعدد گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اب تک پانچ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں چار سیاح اور ایک مقامی باشندہ شامل ہے۔ صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر دیامر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں دو افراد کی شناخت ہو چکی ہے، جبکہ ایک خاندان کا تین سالہ بچہ تاحال لاپتہ ہے۔ تلاش کے عمل میں سراغ رساں کتوں کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔ گلگت بلتستان اسکاؤٹس نے تین خواتین سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا ہے۔ان کے مطابق، بابوسر سے نیچے تھک کے مقام پر کلاؤڈ برسٹ کے باعث شدید لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس سے بابوسر روڈ کا تقریباً آٹھ کلومیٹر کا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ دس سے پندرہ گاڑیاں، جن میں کوسٹرز بھی شامل تھیں، سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔ بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولیات بھی شدید متاثر ہوئی ہیں، جس کے سبب مواصلاتی رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ مشینری متاثرہ علاقوں میں بھیجی جا رہی ہے اور ناران کی جانب سے بھی سڑک کی بحالی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ زخمی افراد کو قریبی اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک تین لاشیں نکالی جا چکی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ سیاحوں کی ہیں یا مقامی افراد کی۔ حکومت کی جانب سے متاثرین کو خوراک، پانی اور دیگر امدادی اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔ادھر گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق شاہراہ بابوسر پر صبح کے وقت سے سرچ آپریشن جاری ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ سیلاب کی زد میں آ کر ایک گرلز اسکول، دو ہوٹل، ایک پولیس چوکی، ایک پولیس شیلٹر اور پچاس سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ آٹھ کلومیٹر طویل سڑک بری طرح متاثر ہوئی ہے جبکہ پندرہ سے زائد مقامات پر راستے بند ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ چار پل بھی سیلاب میں بہہ چکے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ دو سو سے زائد سیاحوں کو ریسکیو کرکے چلاس شہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ بابوسر میں مواصلاتی نظام مکمل طور پر مفلوج ہے، جس کے باعث سیاح اپنے گھروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے۔ تاہم چلاس کے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز سیاحوں کے لیے بلا معاوضہ کھول دیے گئے ہیں تاکہ وہ محفوظ طور پر قیام کر سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…