پیر‬‮ ، 15 جون‬‮ 2026 

دیامر میں ایمرجنسی نافذ، ہلاکتوں کی تعداد 5 ہوگئی، ریسکیو کارروائیاں جاری، 200 سیاح محفوظ مقام پر منتقل

datetime 22  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)گلگت بلتستان کے علاقے بابوسر ٹاپ پر شدید بارشوں کے بعد آنے والے اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) نے تباہی مچا دی۔ جیو نیوز کے مطابق اس قدرتی آفت کے نتیجے میں کئی سیاح لاپتہ ہو گئے، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ مقامی افراد نے بھی ریسکیو کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور متعدد افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ڈپٹی کمشنر دیامر کے مطابق، گزشتہ روز ہونے والے کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں بابوسر کے مقام پر شدید سیلاب آیا جس نے متعدد گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اب تک پانچ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں چار سیاح اور ایک مقامی باشندہ شامل ہے۔ صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر دیامر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں دو افراد کی شناخت ہو چکی ہے، جبکہ ایک خاندان کا تین سالہ بچہ تاحال لاپتہ ہے۔ تلاش کے عمل میں سراغ رساں کتوں کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔ گلگت بلتستان اسکاؤٹس نے تین خواتین سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا ہے۔ان کے مطابق، بابوسر سے نیچے تھک کے مقام پر کلاؤڈ برسٹ کے باعث شدید لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس سے بابوسر روڈ کا تقریباً آٹھ کلومیٹر کا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ دس سے پندرہ گاڑیاں، جن میں کوسٹرز بھی شامل تھیں، سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔ بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولیات بھی شدید متاثر ہوئی ہیں، جس کے سبب مواصلاتی رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ مشینری متاثرہ علاقوں میں بھیجی جا رہی ہے اور ناران کی جانب سے بھی سڑک کی بحالی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ زخمی افراد کو قریبی اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک تین لاشیں نکالی جا چکی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ سیاحوں کی ہیں یا مقامی افراد کی۔ حکومت کی جانب سے متاثرین کو خوراک، پانی اور دیگر امدادی اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔ادھر گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق شاہراہ بابوسر پر صبح کے وقت سے سرچ آپریشن جاری ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ سیلاب کی زد میں آ کر ایک گرلز اسکول، دو ہوٹل، ایک پولیس چوکی، ایک پولیس شیلٹر اور پچاس سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ آٹھ کلومیٹر طویل سڑک بری طرح متاثر ہوئی ہے جبکہ پندرہ سے زائد مقامات پر راستے بند ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ چار پل بھی سیلاب میں بہہ چکے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ دو سو سے زائد سیاحوں کو ریسکیو کرکے چلاس شہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ بابوسر میں مواصلاتی نظام مکمل طور پر مفلوج ہے، جس کے باعث سیاح اپنے گھروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے۔ تاہم چلاس کے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز سیاحوں کے لیے بلا معاوضہ کھول دیے گئے ہیں تاکہ وہ محفوظ طور پر قیام کر سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…