منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان اور بھارت کا سفارتی ذرائع سے جیلوں میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

datetime 1  جولائی  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان اور بھارت نے سفارتی ذرائع سے ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی حکومت سے تمام پاکستانی قیدیوں کے لیے خصوصی قونصلر رسائی کے ساتھ سزا مکمل کرنے والے قیدیوں کی رہائی اور وطن واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے بتایا کہ فہرستوں کا تبادلہ قونصلر رسائی کے معاہدے 2008 کی تعمیل میں کیا گیا ہے، معاہدے کے تحت ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو ایک دوسرے کی تحویل میں قیدیوں کی فہرستیں شیئر کرتے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حکومت پاکستان نے 246 بھارتی قیدیوں کی فہرست ہائی کمیشن اسلام آباد کے نمائندے کے حوالے کی، جن میں 53 سویلین قیدی اور 193 ماہی گیر شامل ہیں۔دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے 463 پاکستانی قیدیوں کی فہرست پاکستان کے ہائی کمیشن، نئی دہلی کے ایک سفارت کار کے ساتھ شیئر کی ہے، جن میں 382 سویلین قیدی اور 81 ماہی گیر شامل ہیں،حکومت پاکستان نے ان تمام پاکستانی قیدیوں اور ماہی گیروں کی فوری رہائی اور وطن واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…