منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

13 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا ہولناک واقعہ

datetime 24  مئی‬‮  2025 |

شکارپور (این این آئی)13 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کا ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے، ، ملزماں میں سے ایک پولیس افسر کا بیٹا بھی شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق شکارپور مین صدر محلے کی رہائشی 13 سالہ لڑکی کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ، ملزماں میں سے ایک پولیس افسر کا بیٹا بھی ہے۔ڈاکٹرز نے ابتدائی معائنے میں 13 سالہ لڑکی سے زیادتی کی تصدیق کردی ہے جبکہ پولیس نے دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ایس ایس پی شاہ زیب چاچڑ نے بتایا کہ زیادتی کرنے والوں کی شناخت تنویر جعفری اور جواد ہکڑو نام کے طور پر ہوئی ہے، دو ملزمان میں سے ایک ملزم تنویر جعفری پولیس اے ایس آئی کا بیٹا ہے۔

متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ چیک اپ کے لئے نجی کلینک میں گئی تھی، وہاں پانی میں نشہ آور چیز ملاکر اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی، زیادتی کے بعد وڈیو بناکر بلیک میل کیا گیا اور دو ماہ تک جنسی تشدد جاری رکھا گیا۔متاثرہ لڑکی نے مزید بتایا کہ جب زیادتی اور بلیک میلنگ کی وارداتیں حد سے بڑھ گئیں، تو خاندان کو بتایا، جس کے بعد معاملہ منظر عام پر آیا، واقع میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے انصاف فراھم کیا جائے۔دوسری جانب معاشرتی اور انسانی حقوق کے حلقوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ اگر پولیس افسر کا بیٹا بھی ملوث ہے، تو تحقیقات غیر جانبدار ہونی چاہئیں اور مجرموں کو سخت سزا دی جائے۔متاثرہ خاندان نے حکام سے فوری کارروائی کی اپیل کی ہے۔ پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔اجتماعی جنسی زیادتی کا یہ واقعہ انصاف،اور تحفظ کے لیے ایک چیخ ہے، اجتماعی جنسی زیادتی یہ صرف جسمانی تشدد نہیں، بلکہ ایک گہرا نفسیاتی، جذباتی اور سماجی زخم ہے، جو برسوں، بلکہ پوری زندگی تک مندمل نہیں ہوتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…