اسلام آباد(نیوز ڈیسک )سائنسدانوں کو زمین کے اندر سے ساڑھے 12 سال پرانے خار پشت کے آثار ملے ہیں، جس کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی خوبصورت ریشمی بالوں کا گولہ تھا۔یہ قدیم مخلوق بہت عمدگی سے فاسل کی شکل میں محفوظ ہو گئی تھی اور یہ ریڑھ کی ہڈی والے جانور خارپشت کی اب تک دریافت ہونے والی سب سے قدیم نسل ہے۔یہ تحقیق نیچر نامی سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔اس مخلوق کا نام سپائنولیسٹیز زینارتھروسس رکھا گیا ہے اور اسے میڈرڈ کی آٹونومس یونیورسٹی کی تحقیق کار اینجلا بسکلیونی اور ان کی ٹیم نے وسطی سپین کے علاقے لاس ہویاس کیوری میں کھدائی کے دوران دریافت کیا گیا۔تحقیق کے شریک مصنف امریکہ کی یونیورسٹی آف شکاگو کے ڈاکٹر ڑی شی لو کا کہنا ہے کہ ’سپائنولیسٹیز ایک شاندار دریافت ہے۔تحقیق کے شریک مصنف امریکہ کی یونیورسٹی آف شکاگو کے ڈاکٹر ڑی شی لو کا کہنا ہے کہ ’سپائنولیسٹیز ایک شاندار دریافت ہے۔یہ بات بہت حیرت انگیز ہے کہ اتنا قدیم ہونے کے باوجود بھی اس جانور کی جلد اور بال چھوٹی چھوٹی جزئیات کے ساتھ محفوظ تھیں۔’اس جانور کے ذریعے موجودہ دور کے ممالیہ جانوروں کی جلد اور بالوں کی مختلف اقسام کے بارے میں مکمل معلومات ملتی ہے۔اس جانور کے جگر، پھیپھڑے اور پردہ شکم جوں کے توں تھے، اس ہی طرح اس کے جسم پر ریشمی بال، ریڑھ کی ہڈی اور جلد پر موجود چھلکے بھی صحیح حالت میں تھے۔جرمنی کی یونیورسٹی آف بون کے پروفیسر ٹامس مارٹن وضاحت کرتے ہیں کہ ’کھدائی کے دوران عام طور پر آپ کو ہڈیاں یا ڈھانچے ملتے ہیں اور ہمیں بہت سے جانوروں کے آثار ڈھانچوں کی صورت ہی میں ملے ہیں۔ لیکن اس طرح جسم کے نرم حصے اتنی تفصیل کے ساتھ کبھی نہیں ملے۔اس مخلوق کا حجم چوہے جتنا اور وزن تقریباً 50 سے 70 گرام تھا۔اس کے کان بڑے بڑے اور منہ نوکیلا تھا، کمر پر چھوٹی ایال اور پیٹ نرم بالوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ وہ زیادہ تر زمین ہی پر رہتے تھے اور کیڑے مکوڑے کھاتے تھے۔پروفیسر مارٹن کہتے ہیں کہ ’یہ بہت ہی پیارا جانور تھا جو موجودہ دور کے چوہوں کی طرح لگتا ہے۔ان تمام قابل ستائش خصوصیات کے ساتھ سپائنولیسٹیز کا ایک دفاعی پہلو بھی ہے۔اس کی کمر کے نچلے حصے پر چھوٹے چھوٹے کانٹے اور سخت چھلکے موجود تھے، جن کے ذریعے وہ شکاری جانوروں سے اپنی حفاطت کرتا تھا۔پروفیسر مارٹن نے بتایا کہ ’اگر کوئی جانور حملہ کرنے کے دوران اس کی کمر پر کاٹتا تو کمر پر موجود کانٹے الگ ہو کر شکاری جانور کے منہ میں چلے جاتے، اور جب تک شکاری جانور اس صورت حال کو سمجھتا سپائنولیسٹیز وہاں سے فرار ہو جاتا۔اس پر حملہ کرنے والے جانور ممکنہ طور پر چھوٹے ڈائنوسار تھے جن کے آثار سپین کے اس ہی مقام سے نکلے تھے جہاں سے سپائنولیسٹیز کے۔اس مقام سے اب تک مگرمچھوں، چھپکلیوں کی اقسام، مینڈکوں، اور پرندوں کے آثار بھی برآمد ہو چکے ہیں۔آج وسطی سپین ایک گرم اور خشک علاقہ ہے، لیکن ساڑھے 12 کروڑ سال قبل یہ ایک گرم مرطوب اور ہرا بھرا خطہ تھا۔پروفیسر مارٹن نے کہا کہ یہ جانور ایک دلدلی زمین پر رہتے تھے۔
زمین کے اندر سے ساڑھے 12 سال پرانے خار پشت کے آثاردریافت کرلئے گئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
راولپنڈی،ہوٹل میں متعدد بار زیادتی کے بعد خاتون حاملہ، پیدا ہونے والی بچی بھی چھین لی گئی
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
قیامت خیز گرمی سے 9 افراد جاں بحق، 2 روز میں اموات 19 ہوگئیں
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے



















































