بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

دنیا کا سب سے لمبا ٹریفک جام جو 12 دن تک جاری رہا

datetime 5  اپریل‬‮  2025 |

بیجنگ (خصوصی رپورٹ)  دنیا کے سب سے بڑے اور طویل ترین ٹریفک جام کا انوکھا واقعہ اگست 2010ء میں چین کے صوبہ ہیبئی (Hebei) اور بیجنگ کے درمیان پیش آیا، جب لاکھوں افراد پورے بارہ دن تک ایک شدید ٹریفک جام میں پھنسے رہے۔
یہ ٹریفک جام 14 اگست سے 26 اگست 2010ء تک جاری رہا، جو چین کی معروف چائنا نیشنل ہائی وے 110 (China National Highway 110) پر پیش آیا۔ اس شاہراہ پر روزمرہ معمولات سے کہیں زیادہ بھاری ٹریفک، خاص طور پر کوئلہ لے جانے والے ٹرکوں کی تعداد میں اضافے، سڑک کی مرمت کے جاری کام، اور کئی گاڑیوں کے اچانک خراب ہو جانے کی وجہ سے ایک انتہائی غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی۔ نتیجتاً گاڑیوں کی ایک ایسی طویل قطار لگ گئی جو 100 کلومیٹر سے بھی زیادہ طویل تھی۔

ہر روز صرف 1 کلومیٹر کی پیش رفت
صورتحال اس قدر ابتر تھی کہ ٹریفک میں پھنسی ہوئی ہر گاڑی روزانہ بمشکل صرف 1 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر پاتی۔ ڈرائیورز اور مسافروں کو کھانے، پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سڑک کنارے چھوٹا شہر بسا دیا گیا
اس طویل جام کے دوران لوگوں نے سڑک کنارے عارضی دکانیں، کھانے کے اسٹال، اور حتیٰ کہ آرام کے لیے خیمے بھی لگا لیے۔ ایک طرح سے ہائی وے کے کنارے ایک “عارضی شہر” آباد ہو گیا تھا، جہاں پانی، سگریٹ، نوڈلز اور دیگر اشیائے ضرورت کئی گنا زیادہ قیمتوں پر فروخت کی جا رہی تھیں۔

حکومت اور پولیس کی مداخلت
حکومتی اداروں اور پولیس نے صورت حال کو قابو میں لانے کے لیے کوششیں شروع کیں۔ ٹریفک پولیس نے مختلف روٹس پر گاڑیوں کو موڑنا شروع کیا، مرمت کا کام تیز کیا گیا، اور سڑک پر پھنسے ہوئے افراد کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے گئے۔

اس واقعے سے کیا سیکھا گیا؟
یہ واقعہ دنیا بھر میں میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بنا اور اربوں لوگوں نے اس غیر معمولی صورتحال کو سوشل میڈیا اور نیوز چینلز کے ذریعے دیکھا۔ اس حادثے نے چینی حکومت کو اپنی ٹریفک مینجمنٹ اور انفراسٹرکچر پر نظر ثانی پر مجبور کر دیا۔

دنیا کا سب سے طویل ٹریفک جام
یہ واقعہ اب تک دنیا کا سب سے طویل ٹریفک جام تسلیم کیا جاتا ہے، جو نہ صرف اس کی طوالت بلکہ اس کی شدت، اثرات اور دنیا بھر میں اس کی بازگشت کے حوالے سے ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…