اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) بھارتی فلم ساز اور انڈین فلم اینڈ ٹیلی ویژن ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن (IFTDA) کے صدر اشوک پنڈت نے پاکستانی اداکار فواد خان کی بالی ووڈ میں ممکنہ واپسی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
حالیہ انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے اشوک پنڈت کا کہنا تھا کہ اگر فواد خان کو دوبارہ بھارتی فلموں میں کام کرنے کا موقع دیا گیا تو یہ معاملہ بھارت میں عوامی سطح پر شدید غصے اور مخالفت کو جنم دے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فنکاروں کی بھارت میں شمولیت “قومی مفادات کے منافی” ہے۔ ان کے مطابق، پاکستانی اداکار کبھی بھی بھارت میں ہونے والے دہشت گرد حملوں، خصوصاً پلوامہ جیسے سانحات، کی مذمت نہیں کرتے، جو کہ بھارتی عوام کے لیے ناقابلِ قبول رویہ ہے۔
پنڈت نے اس خیال کو بھی مسترد کر دیا کہ فن اور ثقافت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ان کے بقول، جب پاکستانی فنکار بھارتی فوجیوں پر حملوں پر خاموشی اختیار کریں تو پھر ان کے ساتھ کام کرنا ایک اخلاقی سوال بن جاتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فواد خان کو کسی بھارتی فلم میں کاسٹ کیا گیا تو اس کے خلاف شدید احتجاج متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2019 کے پلوامہ واقعے کے بعد فلم انڈسٹری کی کئی تنظیمیں بشمول فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنیما ایمپلائز (FWICE) پہلے ہی پاکستانی فنکاروں پر باضابطہ پابندی لگا چکی ہیں، اور مستقبل قریب میں اس حوالے سے ایک اہم اجلاس بھی بلایا جائے گا۔
یاد رہے کہ فواد خان، جو پاکستان میں ایک بڑے فلمی ستارے کے طور پر جانے جاتے ہیں، جلد ہی بھارتی فلم ابیر گلال میں مرکزی کردار نبھاتے دکھائی دیں گے۔ فلم کا ٹیزر جاری ہو چکا ہے، اور شائقین کی جانب سے اسے کافی پذیرائی مل رہی ہے۔



















































