اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

عمران خان نے یقینی بنایا کہ چینی صدر کا دورہ نہ ہوسکے

datetime 9  اکتوبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے یہ وقت درست نہیں ہے، حکومت کو ان کمپنیوں کی کارپوریٹ گورننس درست کرنی چاہئے،عمران خان نے یقینی بنایا کہ چینی صدر کا دورہ نہ ہوسکے، اقتصادی راہداری سے عمران خان اور پاکستان دشمنوں کی نیند اڑی ہوئی ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے ٹاک شومیں گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں پیپلز پارٹی کے رہنما سلیم مانڈوی والا اور تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود بھی شریک تھے۔ شفقت محمودنے کہا کہ ن لیگ اور پی پی ایک سکے کے دو رخ ہیں،پرویز رشید کو ایسی گھٹیا زبان استعمال نہیں کرنی چاہئے تھی، پنجاب حکومت الیکشن سے پہلے چینلز پر اشتہارات کی بوچھاڑ کر کے انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ذمے دارعہدے پر ہوتے ہوئے کسی پرغداری کا الزام لگانا زیب نہیں دیتا،قرضے لے کر زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانا کمال نہیں ۔احسن اقبال نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پہلے آصف زرداری کو اور اب نواز شریف کو بدترین لیڈر قرار دے رہے ہیں، یہ پہلا موقع نہیں جب عمران خان نے یو ٹرن لیا ہو،عمران خان کو موقف تبدیل کرتے ہوئے اب شرمندگی نہیں ہوتی، عمران خان کے بیانات کو لوگوں نے سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیا ہے، پاکستان کے دشمن ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد نے پی ٹی آئی کو عطیات دیئے، جب کوئی کسی کو عطیات دیتا ہے تو اس سے کچھ کام بھی کرواتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے یقینی بنایا کہ چینی صدر کا دورہ نہ ہوسکے، عمران خان نے دھرنے میں چینی صدر کے بار ے میں غیرذمہ دارانہ تقاریر کیں، اقتصادی راہداری سے عمران خان اور پاکستان دشمنوں کی نیند اڑی ہوئی ہے، عمران خان کی پالیسیاں پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچارہی ہیں، آج پاکستان کو سیاسی زلزلوں کی نہیں استحکام کی ضرورت ہے، عوام عمران خان سے کہتے ہیں ملک کو چلنے دیں۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 2015ء میں نواز شریف نے بیالیس لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا، عمران خان تین سو کنال کے مکان میں رہتے ہیں اپنا ٹیکس بھی بتائیں، عمران خان پرانے الزامات دہرارہے ہیں، سیاستدانوں کو سیاسی بحث کو ذاتیات سے اوپر لانا ہوگا، عمران خان حکومت کو مدت پوری کرنے نہیں دینا چاہتے، پاکستان کو سیاسی طوفانوں نہیں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بجلی کی تقسیم کا موجودہ نظام سولہ ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی آگے نہیں پہنچا سکتا، پیداواری یونٹ کے ساتھ ترسیل کے نظام پر بھی کام نہیں ہوا، پچھلے سالوں میں جتنے پیداواری یونٹ لگنے تھے وہ نہیں لگے، میری ذاتی رائے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے یہ وقت درست نہیں ہے، حکومت کو ان کمپنیوں کی نجکاری کے بجائے کارپوریٹ گورننس درست کرنی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…