ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

انسانی اسمگلنگ کا الزام،صارم برنی کے ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد، جیل منتقل کرنیکا حکم

datetime 8  جون‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)عدالت نے انسانی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار سماجی رہنما صارم برنی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ایف آئی اے کی جانب سے انسانی اسمگلنگ اور دھوکا دہی کے الزام میں زیر حراست سماجی رہنما صارم برنی کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پورا ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کی جانب سے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی اور کہا گیا کہ والدہ افشین نے بچی کو مدیحہ نامی خاتون کو فروخت کیا تھا، مدیحہ نے بچی کو دوسری خاتون بشریٰ کو فروخت کیا، فیملی کورٹ میں صارم برنی ٹرسٹ نے بچی کو لاوارث قرار دیا۔تفتیشی افسر نے کہاکہ ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کر رہا، سوال کا صحیح جواب نہیں دے رہا، 20 سے زائد متاثرین ہیں جن کی نشاندہی کرنی ہے لیکن ملزم تعاون نہیں کر رہا۔عدالت نے ایف آئی اے کے وکیل سے سوال کیا بچی حیاء کو گود لینے والے نے کتنے پیسے لیے، جس پر وکیل نے بتایا کہا جس نے بچی گود لی ہے اس نے 3 ہزار ڈالر دیے ہیں، عدالت نے پوچھا پیسوں سے متعلق کوئی ثبوت ہے آپ کے پاس، وکیل نے بتایا کہ امریکی حکام سے ڈیجیٹل اور فنانشل ریکارڈ مانگا ہے۔وکیل ایف آئی اے نے کہا کہ کم عمر بچیوں کا معاملہ ہے ان کیمرا ٹرائل کیا جائے، اس میں منظم گروہ ملوث ہے، ملزم کا مزید ایک ہفتے کا ریمانڈ دیا جائے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا بچیوں کے حقیقی والدین زندہ ہیں؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ بچیوں کے والدین زندہ ہیں ان کا عدالت میں بیان ریکارڈ کرائیں گے۔ملزم صارم برنی کی جانب سے عامر نواز وڑائچ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش اور کہا کہ فیملی سے رابطہ کیا ہے انہوں نے کہا ہے بچی ہم نے خود دی ہے، ایف آئی اے والے اس کیس کی ڈھائی ماہ سے انکوائری کر رہے ہیں، جس کی بچی تھی اس خاتون کو ایف آئی اے والے بلیک میل کر رہے تھے۔

وکیل صارم برنی نے کہاکہ جو مناسب سوال ہو گا ملزم اس کا جواب دے گا جبکہ صارم برنی کا کہنا تھا میرے پاس موبائل میں شواہد موجود ہیں، میں نے کہا ملک سے باہر ہوں واپس آکر جواب دوں گا۔عدالت نے ملزم سے سوال کیا کہ جب آپ کو پتہ تھا بچی کے حقیقی والدین زندہ ہیں تو جھوٹ کیوں بولا، جس پر صارم برنی کا کہنا تھا مجھے نہیں پتہ تھا۔عدالت نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ ادارے کے سربراہ ہیں آپ کو کیسے نہیں پتہ تھا، ملزم کی جانب سے ضمانت کی درخواست بھی دائر ہے۔عدالت نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کو ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیتے ہوئے صارم برنی کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور کہا کہ ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت 10 جون کو ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…