بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی

datetime 5  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(اے این این) وفاقی حکومت کے حکام کے مطابق پاکستان میں عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انسداد پولیو کی موثر کوششوں کی وجہ سے ملک میں رواں سال پولیو سے متاثر بچوں کی تعداد میں قابل ذکر حد تک کمی واقع ہوئی ہے اور انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے آئندہ تین سے چار ماہ کے دوران اس وائرس کے پھیلا پر قابو پا لیا جائے گا۔اس پیش رفت کو نہ صرف ملکی بلکہ بین لااقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ پورے ملک اور خصوصا افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کی بہتر ہوتی ہوئی صورت حال کو قرار دیا جا رہا ہے۔دنیا میں پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کے سربراہ ڈاکٹر جین مارک اولائیو نے بھی پاکستان اور قبائلی علاقوں میں پولیو کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا ہے۔قبائلی علاقوں سے انسداد پولیو کے لیے قائم ہنگامی آپریشن سنٹر پشاور میں ایک اعلی سطحی اجلاس کے دوارن انہوں نے انسداد پولیو کی کوششوں کو پائیدار بنیادوں پر جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔پاکستان میں سرکاری سطح پر انسداد پولیو کے قومی ہنگامی آپریشن مرکز کے رابطہ کار ڈاکٹر رانا صفدر علی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال اب تک سامنے آنے والے کیسوں کی تعداد میں 80 سے 85 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔اگر ہم دیکھیں تو 2014 کے وسط تک ہمارے اندازے کے مطابق تقریبا چھ لاکھ بچے ایسے تھے جن تک ہم نہیں پہنچ پار رہے تھے اور ان کی تعداد ستمبر 2015 میں کم ہو کر 16 ہزار ہو گئی ہے جو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے پروگرام کے لیے نیک شگون ہے”۔ ڈاکٹر صفدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سالوں میں بچوں کی ایک کثیر تعداد تک انسداد پولیو کی ٹیموں کی رسائی نہ ہونے کے باعث یہ بچے ان قطروں سے محروم رہے جاتے تھے تاہم اب اس مشکل پر قابو پا لیا گیا ہے۔دنیا میں پاکستان اور افغانستان ہی صرف دو ایسے ملک ہیں جہاں پولیو وائرس کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے اس کی بڑی وجہ دونوں ملکوں میں سلامتی کی صورت حال کو قرار دیا جاتا ہے۔تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جون میں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے شروع ہونے والے سکیورٹی آپریشن کے باعث ملک میں نہ صرف امن عامہ کی صورت حال بہتر ہوئی ہے بلکہ اس سے انسداد پولیو کی مہم میں بھی خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…