پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد ہائی کورٹ کا شیریں مزاری کو فوری رہا کرنے کا حکم

datetime 16  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کو فوری رہا کرنے کا حکم دیدیا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کرتے ہوئے دلائل سننے کے بعد شیریں مزاری کی رہائی کے احکامات جاری کیے۔عدالتِ عالیہ نے شیریں مزاری کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کا آرڈر کالعدم کر دیا۔

عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں نہ سیاستدان بچانے کیلئے ہوں گے نہ کوئی اور، جس مٹیریل کی بنیاد پر تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کا حکم ہوا وہ پٹیشنر کو بھی دیں، یہ بھی بتائیں اگر اس مٹیریل پر تھری ایم پی او کا آرڈر نہ ہو تو کس مواد پر ہو گا؟عدالت نے شیریں مزاری کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا آرڈر کالعدم قرار دے دیا۔پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف ان کی صاحبزادی ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔قبل ازیں سماعت شروع ہوئی تو پٹیشنر ایمان مزاری کی جانب سے زینب جنجوعہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے نقصِ امن کے خدشے پر شیریں مزاری کی گرفتاری کا آرڈر جاری کیا، شیریں مزاری پر کارکنوں کو اکسانے اور اشتعال دلانے کا الزام ہے۔وکیل زینب جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ شیریں مزاری 9 مئی کے بعد سے گھر پر تھیں، انہوں نے کوئی پبلک اسٹیٹمنٹ بھی نہیں دیا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور سی ڈی آر ریکارڈ سے بھی گھر پر ان کی موجودگی کو چیک کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے سوال کیا کہ یہ بتائیے کہ شیریں مزاری کی عمر کیا ہے؟وکیل زینب جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ شیریں مزاری کی عمر 72 سال ہے، انہیں میڈیکل ایشوز بھی ہیں۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد بطور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے ان سے سوال کیا کہ آپ ریکارڈ کے بغیر کیوں آئے؟ مٹیریل لے کر آئیں جس کی بنیاد پر ڈیٹنشن آرڈر جاری کیا۔اس کے ساتھ ہی عدالت نے سماعت میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…