ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

رشوت ستانی سے تنگ شہید کوٹے پر بھرتی پولیس اہلکار نے خود کشی کر لی

datetime 5  اپریل‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی) شہر قائد میں رشوت ستانی سے تنگ شہید کوٹے پر بھرتی پولیس اہلکار نے خود کشی کر لی۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں ملیر شعبہ تفتیش کے منشی مافیا کی رشوت ستانیوں سے تنگ آ کر شہید کوٹے پر بھرتی شہید کے بیٹے نے اپنی جان لے لی۔یہ واقعہ صفورا عبداللہ شاہ غازی گوٹھ کے قریب پیش آیا، خودکشی کرنے والا

اہل کار نعمت شہید پولیس اہل کار کا بیٹا تھا۔متوفی کے بھائی سیف اللہ نے اس سلسلے میں کئی انکشافات کیے ہیں، انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے بھائی نعمت نے ملیر شعبہ تفتیش میں تعینات دو منشیوں ارسلان اور عدنان کی وجہ سے تنگ آ کر یہ قدم اٹھایا۔خود کشی کرنے والے اہل کار کے بھائی نے دعوی کیا ہے کہ مذکورہ منشی نعمت سے رشوت طلب کر رہے تھے، اور رشوت نہ دینے پر بھائی کا ٹرانسفر پر ٹرانسفر کرتے رہے، ایس ایس پی بھی ان منشیوں کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔متوفی اہل کار نعمت نے اپنے پیچھے 2 سال کا بیٹا اور 3 ماہ کی ایک بیٹی چھوڑی ہے، وہ پہلے گلشن حدید تھانے میں تعینات تھے، جہاں سے گڈاپ تھانے ان کا ٹرانسفر کر دیا گیا، بھائی کے بیان کے مطابق نعمت کی تنخواہ 35 ہزار تھی۔ٹرانسفر پوسٹنگز کے حوالے سے بتاتے ہوئے سیف اللہ نے کہا کہ بھائی کو سائٹ سپر ہائی وے سے سی پیک ٹرانسفر کیا گیا، پھر وہاں سے سکھر ٹرانسفر کر رہے تھے تو بھائی نے مجھ سے کہا کہ اتنی تنخواہ میں کیسے سکھر جاں، سکھر جانے سے انکار پر بھائی کو فیروز آباد تھانے ٹرانسفر کر دیا گیا۔سیف اللہ کے مطابق ان کے بھائی کو بار بار ٹرانسفر کیا جاتا رہا، اور ٹرانسفر رکوانے کے لیے ان سے رشوت مانگی جا رہی تھی، جس سے تنگ آ کر بدھ کی صبح انھوں نے خود کشی کر لی۔واضح رہے کہ خود کشی کرنے والے اہل کار کا بھائی سیف اللہ بھی پولیس کانسٹیبل ہے، انہوں نے بتایاکہ ان کے ساتھ بھی یہی رویہ اپنایا جاتا رہا ہے، اور انھیں بھی لنک روڈ پر ٹرانسفر کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…