حکومت کے پاس آرمی ایکٹ اور آئین میں آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے لیے ترمیم کے لیے صرف چھ ماہ ہیں‘ کیایہ ترمیم اپوزیشن کے بغیر ہوسکتی ہے؟ اگر حکومت واقعی یہ ترمیم چاہتی ہے تو پھر اسے کیا کرنا ہوگا؟ جاوید چودھری کا تجزیہ‎

  پیر‬‮ 2 دسمبر‬‮ 2019  |  21:55

ہماری حکومت پچھلے ایک سال سے بڑے فخر کے ساتھ یہ دعویٰ کرتی آ رہی ہے ملک کی تاریخ میں پہلی بار سول اور ملٹری دونوں ایک پیج پر ہیں‘یہ دعویٰ لوگوں کو شک میں مبتلا کر دیتا تھا لیکن آج آسٹریلیا میں ہماری کرکٹ ٹیم کی شان دار شکست کے بعد یہ ثابت ہو گیا صرف سول اور ملٹری ایک پیج پر نہیں ہیں بلکہ اب ملک کے سارے ادارے ایک صفحے پر اکٹھے ہو چکے ہیں‘آپ الیکشن کمیشن کو دیکھ لیجیے‘ آپ وزارت خزانہ‘ وزارت خارجہ‘ وزارت قانون اور وزارت ریلوے کو دیکھ لیجیے اور آپ سٹاک ایکسچینج‘


انڈسٹری‘ سٹیٹ بینک اور ایف بی آر کو دیکھ لیجیے‘ آپ کو ملک کے سارے ادارے اتنے ہی ایک پیج پر دکھائی دیں گے جتنی آج ہماری کرکٹ ٹیم نظر آئی‘ ہم نے آسٹریلیا میں مسلسل تیرہواں ٹیسٹ ہار کر ثابت کر دیا ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں اور یہ کچھ اس وزیراعظم کے دور میں ہو رہا ہے جو کرکٹ کے ورلڈ چیمپیئن تھے لہٰذا لوگ آج کہنے پر مجبور ہو رہے ہیں جو عمران خان کرکٹ ٹیم ٹھیک نہیں کر سکتے وہ وزارت خزانہ‘ وزارت خارجہ اور فروغ نسیم کی وزارت قانون کیسے ٹھیک کریں گے‘ چلیں یہ ادارے ٹھیک ہوں یا نہ ہوں لیکن ہم کم از کم حکومت کو اتنی داد تو دے سکتے ہیں اس نے تمام اداروں کو ایک پیج پر اکٹھا کر دیا اور وہ پیج ہے بحران‘ وہ ہے کنفیوژن‘ہمیں انہیں یہ داد ضرور دینی ہو گی، حکومت کے پاس آرمی ایکٹ اور آئین میں آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے لیے ترمیم کے لیے صرف چھ ماہ ہیں‘ یہ ترمیم اپوزیشن کے بغیر ممکن نہیں اور اگر حکومت واقعی یہ ترمیم چاہتی ہے تو پھر اسے اپوزیشن کے ساتھ گیو اینڈ ٹیک کرنا پڑے گا‘ پھر نواز شریف اور آصف علی زرداری کا احتساب جاری نہیں رہ سکے گا‘کیا حکومت اس کے لیے تیار ہے‘ اس کا فیصلہ آصف علی زرداری کی درخواست کرے گی‘زرداری صاحب کل یہ درخواست جمع کرائیں گے، دوسرا کیا وزیراعظم بحرانوں سے نبٹنے کے لیے بلاول بھٹو اور میاں شہباز شریف سے ملاقات کے لیے تیار ہو جائیں گے۔

موضوعات:

loading...