جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

کایلی جینراور کنڈیل اپنی سکیورٹی ٹیم پر بھاری رقم خرچ کرتی ہیں

datetime 2  دسمبر‬‮  2019 |

نیویارک (این ین آئی)دنیا کے مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خود کو جرائم پیشہ افراد یا ڈاکوؤں سے محفوظ رکھنے کے لیے جہاں دیگر شخصیات بھی سکیورٹی ٹیم کا انتظام کرتی ہیں، وہیں کایلی جینر نے بھی اپنی حفاظت کا اعلیٰ انتظام کر رکھا ہے۔ کایلی جینر کی والدہ 70 سالہ کیٹلین جینر نے انکشاف کیا کہ ان کی دونوں بیٹیاں کایلی اور کنڈیل جینر خود کو ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ افراد سے محفوظ رکھنے کے لیے اعلیٰ سکیورٹی کا انتظام کرتی ہیں۔کیٹیلین جینر کے مطابق نہ صرف دونوں بہنیں بلکہ ان کی سوتیلی بہنیں کم کارڈیشین اور کارٹنی کارڈیشین بھی ڈاکوؤں اور چوروں سے بچنے کے لیے سکیورٹی ٹیم پر بھاری خرچ کرتی ہیں۔

کیٹیلین جینر نے اگرچہ دوسری بیٹیوں کے سکیورٹی اخراجات نہیں بتائے، تاہم انہوں نے کم عمر ارب پتی کایلی جینر کے سکیورٹی اخراجات بتائے اور کہا کہ ان کی سیکیورٹی ٹیم ہر وقت اور ہر ملک میں ان کے ساتھ ہوتی ہے۔کایلی جینر کی والدہ کے مطابق ان کی بیٹی سکیورٹی پر ماہانہ 3 سے 4 لاکھ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریباً 7 کروڑ روپے تک خرچ کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کایلی جینر کے پاس قیمتی اشیاء اور تحائف ہوتے ہیں، اس لیے اب وہ ہر ملک کے دورے کے دوران اپنی سکیورٹی ٹیم کو ساتھ لے کر جاتی ہیں۔تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کایلی جینر کی سکیورٹی ٹیم خواتین پر مشتمل ہے یا مرد حضرات پر مشتمل ہے۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…