جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

’’آئی سی سی کا فائنل میچ ‘‘

datetime 17  جون‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نئی دہلی ( این این آئی )تقریباً ایک ارب سے بھی زائد لوگوں کے ٹی وی پر آئی سی سی چمپئنز ٹرافی میں روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان فائنل میچ دیکھنے جبکہ اشتہارات کی دنیا کے ماہرین کے مطابق فائنل میچ کے دوران ٹی وی اشتہارات سے تقریباً 500کروڑ کی کمائی ہونے کا اندازہ ہے۔بی بی سی کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان فائنل میں 100 اوور کے میچ میں ہر ایک اوور میں تقریباً پانچ کروڑ کی کمائی کی امید ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان چیمپیئنز ٹرافی میں 4جون کو پہلے مقابلے کے دوران ٹی وی نشریات کمپنی نے 10سیکنڈ کا اشتہار دکھانے کے لیے 25لاکھ چارج کیے تھے۔لیکن ٹی وی اشتہارات دلانے والی کچھ کمپنیاں دعوی کرتی ہیں کہ فائنل میں یہ قیمت 35لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔سٹار ٹی وی کے مطابق 4جون کو ہونے والے انڈیا اور پاکستان کے مابین چیمپیئنز ٹرافی کے پہلے میچ کو 20 کروڑ سے بھی زیادہ لوگوں نے دیکھا۔اس ایک میچ کا تقابل کیا جائے تو ڈیڑھ ماہ تک چلنے والی 60میچوں والے آئی پی ایل کو تقریباً 40کروڑ ناظرین نے دیکھا تھا۔پاکستان اوربھارت کے درمیان فائنل میچ تقریباً ایک ارب سے بھی زیادہ لوگوں کے ٹی وی پر دیکھنے کا اندازہ ہے۔یہ بتانا ضروری ہے کہ کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ اور اہم میچ میں ٹی وی نشریات کمپنی اشتہارات کے لیے 10فیصد سلاٹ ریزرو رکھتی ہے۔ سیدھے لفظوں میں کہا جائے تو بڑے میچوں میں جو زیادہ پیسہ دے گا اس کے لیے دروازے کھلے ہیں۔نشریات کے لیے بھارت کی وزارت اطلاعات و نشریات کے قوانین کے مطابق ایک گھنٹے کے کسی بھی طرح کی ٹی وی نشریات کے دوران صرف 12 منٹ کے لیے ہی اشتہارات دکھائے جا سکتے ہیں۔

یعنی تقریباً نو گھنٹے کی نشریات کے دوران میں ٹی وی کمپنی کے پاس تقریباً 108منٹ کے اشتہارات دکھانے کے لیے ہوں گے۔ اس کے علاوہ میچ سے پہلے تجزیے اور بعد کے جائزے وغیرہ کو جوڑ دیا جائے تو اسے 40سے 50منٹ مزید مل جاتے ہیں۔یہ محض سرکاری تجزیہ ہے کیونکہ بھارت کے کئی ٹی وی چینلز کے گروپس نے اس اصول کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے

لہٰذاکوئی اہم فیصلہ آنے تک تمام چینلز اپنی مرضی کے اشتہارات دکھانے کے لیے آزاد ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان فائنل میں اشتہارات دکھانے کے لیے بہت سی کمپنیاں اپنی مصنوعات کو پروموٹ کرنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہی تھیں لیکن بتایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی سلاٹ خالی نہیں ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…