اسلا م آباد(شکیل احمد میو )حکومت پاکستان نے پاک چائینہ دوستی کے تناظر میں 70 روپے مالیت کا نیا یادگاری سکہ جاری کردیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ سکہ پاکستان اور چائنہ کے مابین سی پیک جیسے اہم منصوبے کے پیش نظر جاری کیا گیاہے۔اسی موضوع کو مدنظررکھتے ہوئےچین نے بھی اسی تھیم پر یادگاری سکہ جاری کیا ہے۔تاہم اس سے پہلے بھی پاکستان نے پاک چائینہ دوستی اور تعلق
پر 3 مختلف خوبصورت یادگاری سکے جاری کرچکا ہے۔سال 2009, 2011, اور 2015 میں ایک 10 روپے اور دو 20 روپے مالیت کے یادگاری سکے جاری کیے گئے۔یادگاری سکوں کے جاری کرنے پیش نظر کسی بھی ملک کی اہمیت افادیت کے علاوہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی کی مضبوطی کے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ یادگاری سکے دوسرے ریگولر سکوں کے مقابلے میں انتہائی محدود تعداد میں جاری کیے جاتے ہیں۔ تاکہ بعد ازاں یہ سکے کم موجود ہونے کی وجہ سے کولیکٹرز کے اور عوام کے درمیان تاریخی اہمیت اختیار کر سکیں۔۔۔۔۔یہ بھی پڑھیں : آپ نے پاکستانی کرنسی نوٹس پر ہمیشہ بانی پاکستان قائد اعظم کا پورٹریٹ ہی دیکھا ہو گا۔۔۔ پوری دنیا میں بھی اسی روایت اور اصول کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ اس ملک کے کرنسی نوٹس پر اس ملک کے ٌفادر آف نیشنٌ کی تصویر ہی جاری کی جاتی ہے۔۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان کے کرنسی نوٹس پر قائد اعظم کے کی بجاۓ برطانیہ کے باشادہ جیورج ششم کی تصویر بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔۔۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے 1947 میں پاکستان کی آذادی کے فوری بعد پاکستان ایک نوزائیدہ ریاست تھی جس کے پاس کرنسی چھاپنےاور سکے بنانے کا اپنا نظام نہیں تھا۔۔۔ لہذا پاکستان کو فوری طور ملک کے اقتصادی اور مانیٹری نظام بحال کرنے کے لیے کرنسی نوٹوں اور سکوں کی ضرورت تھی تو قائد اعظم نے حکومت برطانیہ سے معاہدہ کیا جب تک پاکستان اپنے ذاتی کرنسی نوٹوں اور سکوں میں خودکفیل نہیں ہوتا تب تک پاکستان میں برطانیہ کے کرنسی نوٹ ہی رائج کیے جائیں گے۔۔ 1948 تک یہی کرنسی نوٹ پاکستان میں رائج رہے۔ ان نوٹوں پر حکومت پاکستان واضح طور پر پڑھا جاسکتا ہے۔۔ اب یہ کرنسی نوٹس انتہائی نایاب تصور کیے جاتے ہیں۔۔ اور ان کی قیمت ہزاروں اور لاکھوں میں ہے۔۔۔ اور برطانیہ ان کرنسی نوٹوں کو خریدنے میں خاص طور پر دلچسپی رکھتا ہے۔۔۔





























