اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )تربوز بھی دیگر پھلوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جو نہ صرف بھوک کو مٹاتا ہے بلکہ پیاس بھی ختم کرتا ہے۔ تربوز کھانے کےہےتربوز میں وٹامن اے اور سی کے علاوہ بہت سے صحت مند مرکبات پائے جاتے ہیں جبکہ اس کے ایک کپ میں 46 کیلوریز پائی جاتی ہیں۔تربوز غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے جس میں بہت کم کیلوریز پائی جاتی ہیں۔تربوز میں
وٹامن اے، وٹامن سی، پوٹاشیم، میگنیشم، وٹامن بی ون، بی فائیو اور بی 6 پایا جاتا ہے جو انسانی جسم کے لیے انتہائی مفید ہے۔ جو دن بھر ایک انسانی جسم کو متحرک رکھتا ہے۔اس میں موجود پوٹاشیم دن بھر کی مصروفیت کے باوجود تھک۔اوٹ کے احساس کو دور کرتا ہے۔ یہ اینٹی آک۔سائیڈنٹ جسم میں گ.ردش کرنے والے مض.ر فری ریڈیک.لز سے ل.ڑتا ہے اور خلیات کا دفاع کرتا ہے۔ان دنوں میں تربوز کو لوگ بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ یہ ایسا پھل ہے جو عام دستیاب ہے اس کو کھانے سے پیاس کی ش.دت کم ہوجاتی ہے ۔ درحقیقت اس کو دیکھنا بھی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے ۔ آج ہم بتائیں گے کہ تربوز کے کیا فائدے ہیں حدیث پاک ﷺ میں اس بارے میں کیا آیا ہے ۔ حضورﷺ نے اس پھل کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے ۔ تربوز نہ صرف گرمیوں میں تازگی پیدا کرتا ہے بلکہ یہ جسم کو وٹامن اے بی سی کیساتھ پوٹاشیم اور کئی فائدے فراہم کرتا ہے عموماً لوگ تربوز کو زبان کا ذائقہ تبدیل کرنے پانی کی کمی دور کرنے اور ہاضمہ کیلئے استعمال کرتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً نوے فیصد تربوز کے اندر پانی ہوتا ہے ۔جو گرمیوں میں ہائی.ڈریٹ.ڈ رکھنے کیلئے بہت مفید ہے یہ انسانی صحت کیلئے بہترین غذا ہے اس کے اندر ایسے فائدے پائے جاتے ہیں جو نہ صرف گ۔رمی کو دور کرنے اور جگر مثانہ گ۔ردوں اور دل کو طاقت فراہم کرتے اس کو کھانے سے پانی کی کمی دور ہوجاتی ہے اور دل کو تازگی محسوس ہوتی ہے ۔اس کے اث۔رات دماغ تک پہنچتے ہیں جوکہ دماغ کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ ق۔وت حافظہ کو بھی بڑھاتے ہیں۔ تربوز کا زیادہ استعمال آنکھوں کی بیما۔ریوں کو دو رکرتا ہے آنکھوں کی روشنی کو بہتر کرتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ پیٹ کی بیماریوں کا خاتمہ کرتا ہے اس میں پانی کی زیادہ مقدار انسانی جسم میں وزن کو بھی کم کرتی ہے ۔ رات ہو یا دن کو تربوز کو کھانے کے بعد اوپر سے پانی نہ پئیں ۔ آپ کوبتاتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے تربوز کے متعلق کیا ارشاد فرمایا ہے حضرت اما ں عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ تربوز کو اکثر کھجور کیساتھ ملا کر کھایا کرتے تھے. ساتھ یہ بھی فرماتے تھے کہ ہم کھجور کی گرمی کو تربوز کی ٹھنڈک سے اور تربوز کی ٹھنڈک کو کھجور کی گرمی سے توڑتے ہیں ۔ آپ بھی سحری اور افطاری میں تربوز کا استعمال کرتے ہیں اس سنت پر ضرور عمل کریں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔اللہ تعالی نے انسان کے کھانے پینے کے لیے بے شمار نعمتیں پیدا کی ہیں اور ان میں سے کچھ ایسی ہیں جس میں خوراک اور پانی دونوں کی کمی پوری کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ان ہی میں سے ایک ہے تربوزجو ناصرف کھانے میں لذیز ہے بلکہ اس میں موجود اجزا غذائیت سے بھر پور ہوتے ہیں۔ اسے کھانے سے نا صرف پیاسختم ہوتی ہے بلکہ بھوک سے بھی نجات حاصل ہوتی ہے۔

























