جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

پریڈ نے فوجی اور سٹرٹیجک اہمیت اختیار کرلی جانتے ہیں یومِ پاکستان پر پریڈ کی روایت کب سے قائم ہوئی؟ پڑھئے اہم ترین معلومات

datetime 24  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی فوج نے قیام پاکستان سے ہی پاکستان ڈے پریڈ کے انعقاد کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔بی بی سی میں دفاعی تجزیہ کار عمر فاروق کی شائع رپورٹ کے مطابق23 مارچ 1940 کو لاہور کے مینار پاکستان پر منظور ہونے والی تاریخی قرارداد پاکستان کی یاد منانے کے علاوہ اس دن پاکستان کی مسلح افواج اپنی جنگی قوت اور

طاقت کا اظہار بھی کرتی ہیں۔ ماضی میں پاکستانی فوج اس پریڈ میں مقامی طورپر تیار ہونے والے اپنے اسلحہ اور ہتھیاروں کی نمائش کرتی آئی ہے جن میں الخالد ٹینک اور شاہین و غوری جیسے بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔پاکستانی فوج فخر سے بیان کرتی ہے کہ 23 مارچ کو پریڈ میں اپنے جنگی ہتھیاروں کی نمائش کرنا کس طرح سے ایک روایت بن چکی ہے۔سنہ 2019 میں ہونے والی پریڈ کی کوریج دکھاتے ہوئے مسلح افواج کے سرکاری مجلے ہفت روزہ حلال میں فخریہ طورپربتایا گیا کہ مشینی دستوں کی قیادت مقامی طورپر تیار کردہ الخالد ،الضراراور ٹی۔80 یوڈی ٹینکس نے کی جبکہ ان کے پیچھے دیگر مشینی دستے قطار باندھے رواں تھے۔آرٹلری (توپ خانہ) دستوں میں 155 ایم ایم دھانے کی خودکار درمیانے درجے کی ہووٹزرز(ایم۔109 اے 2)، آٹھ انچ دھانے کی خود کار بھاری بندوقیں (ایم۔110)، ملٹی بیرل راکٹ لانچرز اور ملٹی لانچ راکٹ سسٹم بھی شامل تھے۔آرمی ائیر ڈیفنس (بری فوج کا شعبہ ہوا بازی) کے دستوں میں

‘اوائیرلیکون گنز، جراف (زرافہ) ریڈارز، ایف ایم 90 میزائل، سکائی گارڈ(فضائی تحفظ کے)ریڈار اور (اے پی سی پر نصب) ‘آر بی ایس۔70’ میزائل شامل تھے۔ آرمی انجینئرز کا دستہ بھی پریڈ کا حصہ تھا۔ 314 اسالٹ انجینئرز بٹالین کا سازوسامان آرمڈ وہیکل لانچڈ برج

(فولادی پل بچھانے والی گاڑی)، ٹرول اینٹی مائن (بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے)، راکٹ ڈیلیوری مائن سسٹم، اسالٹ ٹریک وے، ربن برج، ‘اے۔ایم۔50’ برج، اور فیلڈ ٹریکس پر مشتمل تھا۔پاکستان آرمی کی ٹیکٹیکل کمیونیکیشن اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن کی گاڑیاں اور الیکٹرانک

وار فئیر کا سامان بھی اس دستے کا حصہ تھا۔میگزین میں مزید بتایا گیا کہ “سٹرٹیجک پلانز ڈویژن کے دستے میں بہت دلچسپی لی گئی۔ اس دستے کا حصہ بننے والے مقامی طورپر تیار کردہ ہتھیاروں کے نظام میں شاہین اول، شاہین سوئم اور نصر میزائل جبکہ ‘ان۔مینڈ ایرئیل وہیکلز(ڈرون)

براق’ اور ‘شاہپر’ شامل تھے۔”سابق سیکریٹری دفاع ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل خالد نعیم لودھی نے بی بی سی کو بتایا کہ رواں برس پاکستان ڈے پریڈ کے پوری دنیا اورپاکستان کے لیے مجموعی طورپردو پیغامات ہیں: دہشت گردی کا دور ختم ہوا اور اب پاکستان مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاری

کے لیے تیار ہے۔آئیں پاکستان دیکھیں، یہ مستحکم ہے اور ہم نے دہشت گردی کو شکست دے دی ہے۔۔۔دوسرا پیغام یہ ہے کہ یہ ایک بڑی فوج ہے جو قومی تعمیر میں شرکت کے لیے تیار ہے۔ یہ محض میری رائے نہیں، یہ آرمی میں اکثریت لوگوں کا نکتہ نظر ہے۔`دفاعی امور کے ماہر اور

سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تاریخ درحقیقت قرارداد پاکستان کی منظوری کی مناسبت سے اہمیت رکھتی ہے اور پاکستان مسلم لیگ اسے ہر سال منایا کرتی تھی۔انھوں نے کہا کہ 23 مارچ 1956 کو پاکستان کا پہلا آئین نافذ ہوا اور اس دن کو یوم جمہوریہ

قرار دے دیا گیا۔اگلے تین سال اسے یوم جمہوریہ کے طورپر منایاجاتا رہا پھر 8 اکتوبر 1958 کو ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ حسن عسکری کے مطابق اس کے بعد آرمی کے لوگوں نے اسے 23 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان کی منظوری کی مناسبت سے یوم پاکستان میں تبدیل کر دیا۔

ضیا دور کے دوران یوم پاکستان پر فوجی پریڈ ہونا ایک معمول بن گیا۔انھوں نے کہا کہ ‘ہم نہ صرف اس قومی دن کو مناتے ہیں بلکہ اس روز اپنی فوجی قوت کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔` انھوں نے بتایا کہ 1965 کی جنگ کے بعد چینی ہتھیار خاص طورپر لڑاکا طیارے پاکستان آئے اور انھیں

23 مارچ 1966 کی پریڈ میں پہلی بار نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ایک اور دفاعی ماہر نے کہا کہ زمین سے زمین پر مار کرنے والے غوری بیلسٹک میزائل مارچ 1998 میں پہلی بار نمائش کے لیے پیش کیے گئے تھے۔سابق سیکریٹری دفاع خالد نعیم لودھی کے مطابق پاکستان ڈے پریڈ

پرتین طرح کے لوگ توجہ کا محور ہوتے ہیں۔سرفہرست ہمارے اپنے عوام ہوتے ہیں جنھیں پاکستانی فوج یہ بتانا چاہتی ہے کہ ملک کا دفاع محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ اس پہلو کو تیاری کے مظاہرے، موجود ہتھیاروں اور اعلی جذبے کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔دوسرے نمبر پر وہ دشمن ہوتا ہے

جسے ہم اپنے مقامی طورپر تیار کردہ اسلحہ کے نظام، میزائل اور دیگرہتھیاروں کے مظاہرے سے آگاہ کرتے ہیں کہ ہم کسی بھی قسم کی جارحیت سے نمٹنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں۔ بعض اوقات ہم اسلحہ سازی کے شعبے میں ہونے والی ترقی و پیش رفت کو بھی اس کے ذریعے سامنے

لاتے ہیں جو عوامی سطح پر پہلے معلوم نہیں ہوتی۔پریڈ کا تیسرا ہدف دوست ممالک ہوتے ہیں۔ ہم ان کے دستے پریڈ میں بلاتے ہیں، ہم مل کر تیار کردہ اسلحہ کی نمائش کرتے ہیں اورانھیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستانی قوم ہمارے دفاع کے لیے ان کی کاوشوں کا اعتراف کرتی ہے۔

یاد رہے کہ مارچ 2008 سے مارچ 2015 کے درمیان سات سال 23 مارچ کی پریڈ منعقد نہیں ہوئی۔ اس کی بنیادی وجہ شہروں میں آئے روز پیش آنے والی دہشت گردی کی وارداتیں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات تھے۔ اس دور میں قبائلی علاقوں میں جاری

فوجی آپریشن کی وجہ سے دہشت گرد گروہ مسلسل دہشت گرد حملے کررہے تھے۔ تاہم یوم پاکستان پر مسلح افواج کی پریڈ کی قومی روایت مارچ 2015 میں پھر سے بحال ہوئی۔گذشتہ پانچ سال کے دوران ‘یوم پاکستان پریڈ’ اسلام آباد ایکسپریس وے کے نام سے مشہور شاہراہ کے کنارے

پر واقع شکرپڑیاں گرائونڈ میں منعقد ہوتی ہے۔30 برس سے زائد عرصہ تک مسلح افواج کی پریڈ کے انعقاد کے مقامات مسلسل تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ اس پریڈ کا اصل مقام پہلے راولپنڈی کا ریس کورس گرائونڈ ہوا کرتا تھا جو بعد میں تبدیل ہوکر پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے شاہراہ دستور پر منتقل ہو گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…