جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

دنیا میں سیاہ رنگ کا نایاب سیب کہاں پایا جاتا ہے اور اسے مہنگا ترین سیب کیوں کہا جاتا ہے

datetime 30  جنوری‬‮  2021 |

عام طور پر سیب کا رنگ سرخ، سبز، پیلا یا ان تینوں کا ملاجلا ہوتا ہے لیکن خصوص جغرافیائی حالات میں سیب کا رنگ گہرا ارغونی تقریباً سیاہ بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے سیبوں کو سیاہ ہیرے یا بلیک ڈائمنڈ کہا جاتا ہے۔ ایسے سیب صرف تبت کے پہاڑوں پر کاشت کیے جا رہے ہیں۔ یہ سیب ہوا نیو (Hua Niu) سیبوں کی ایک قسم ہے۔ یہ سیب

نینگچی، تبت کے علاقے میں کاشت کئے جاتے ہیں۔ ایک چینی کمپنی نے یہاں پر 50 ہیکٹر پر ان سیبوں کا باغ کاشت کیا ہے۔ سطح سمندر سے 3100 میٹر بلندی پر یہ جگہ ان سیبوں کی کاشت کے لیے بہترین ہے۔ یہاں دن اور رات میں درجہ حرارت کا فرق بہت زیادہ ہے۔ اس باغ میں سیبوں پر بھرپور سورج کی روشنی اور الٹرا وائلٹ شعاعیں پڑتی ہیں، جس سے ہوا نیوا قسم کے سیب گہرے ارغوانی ہو جاتے ہیں۔ نینگچی میں ان سیبوں کا باغ 2012ء میں لگایا گیا تھا۔ 2015ء میں یہاں پھل لگنا شروع ہوگیا تھا۔ اس باغ کا پھل بیجنگ، شنگھائی، گوانگزو اور شینزن کی مخصوص سپر مارکیٹس میں 6 یا 8 سیبوں کی گفٹ پیکنگ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ محدود پروڈکشن اور ڈسٹری بیوشن کے اخراجات کی وجہ سے اس کی قیمت بھی کافی زیادہ یعنی 50 یوان یا تقریباً 1 ہزار روپے فی سیب ہے۔ رپورٹس کے مطابق عام سیب کا درخت 2 سے 5 سال میں تیار ہو جاتا ہے لیکن بلیک ڈائمنڈ کے درخت کو تیار ہونے میں 8 سال تک کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ اس کے بعد پیداوار کا صرف 30 فیصد حصہ ایسا ہوتا ہے جسے رنگت کے لحاظ سے بلیک ڈائمنڈ ایپل کہہ کر فروخت کیا جا سکتا ہے۔ باقی تمام سیبوں کا رنگ تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ سیب کے بہت سے کاشتکاروں کے نزدیک سیاہ رنگ کے سیبوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ انٹرنیٹ پر بھی اس کے حوالے سے زیادہ مواد نہیں ملتا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ دنیا میں سیاہ سیبوں کا کوئی وجود نہیں اور ان کی گردش کرتی تصاویر میں اصل رنگ کو گہرا کر کے دکھایا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…