جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

1979میں جب خانہ کعبہ پر حملہ ہوا تو اسکا دفا ع کرتے ہوئے تمام شدت پسندوں کو ٹھکانے لگانے والا بہادر پاکستانی جرنیل کون تھا ؟ ایمان افروز رپورٹ

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

یکم محرم الحرام مطابق 20 نومبر 1979ء منگل کی صبح امام حرم شیخ عبد اللہ بن سبیل نے نماز فجر کا سلام پھیرا ہی تھا کہ چند آدمیوں نے امام صاحب کو گھیرے میں لے لیا ان میں سے کچھ لائوڈ سپیکر پر قابض ہو گئے اس وقت حرم شریف میں ایک لاکھ کے قریب نمازی موجود تھے۔ ان حملہ آوروں کا سرغنہ 27 سالہ محمد بن عبد اللہ قحطانی تھا جس نے چار سال تک مکہ یونیورسٹی میں

اسلامی قانون کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کا دست راست جہیمان بن سیف العتیبہ تھا۔ ان لوگوں نے بڑی باریک بینی سے پلاننگ کر کے جنازوں کا بہروپ بنا کر چارپائیوں کے ذریعے اسلحہ کی بڑی مقدار تہہ خانوں میں جمع کر لی تھی۔ جب تمام تیاریاں مکمل ہو گئیں تو اچانک حرم کے تمام دروازے بند کر کے ان پر اپنے مسلح افراد کھڑے کر دئیے۔ایک آدمی نے عربی میں اعلان کیا کہ مہدی موعود جس کا نام محمد بن عبدا للہ ہے آ چکا ہے۔نام نہاد مہدی نے بھی مائیک پر اعلان کیا کہ میں نئی صدی کا مہدی ہوں میرے ہاتھ پر سب لوگ بیعت کرینگے۔اس گمراہ ٹولے نے مقام ابراہیم کے پاس جا کر گولیوں اور سنگینوں کے سائے میں لوگوں کو دھمکاتے ہوئے بیعت شروع کروا دی۔مذہب اسلام کی آبیاری کیلئے اسلام کے سپوت اپنی جانوں کے نذرانے دے کر اس دین کو جِلا بخشتے آئے ہیں اور شاید ابد تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ نجی ٹی وی چینل پر سینئر صحافی جاوید چوہدری کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف وکیل اور سیاستدان احمد رضا قصوری نے اس حوالے سے بتایا کہ سعودی فرمانروا شاہ خالد نے 32 علماء پر مشتمل سپریم کونسل کا اجلاس فوری طور پر طلب کر لیااور خانہ کعبہ کے دفاع کیلئے پاکستانی حکومت سے رابطہ کیاگیا اور درخواست کی کہ پاکستان خانہ خدا کے دفاع کیلئے اقدامات کرے جس پر جنرل ضیاء الحق نــے ایس ایس جی کمانڈوز کا ایک دستہ ترتیب دیا اور اسے حرم کی پاسبانی کیلئے بھیجا گیا ۔ پاک فوج نــے غیر معمولی سرعت سے تمام دہشت گردوں پر قابو پالیا بغیر کسی جانی نقصان کے اور سب کو فوری طور پر گرفتار کر لیا ۔ تمام یرغمالیوں کو رہائی دلائی گئی ۔ احمد رضا قصوری نے بتایا کہ ایس ایس جی کمانڈوز کی قیادت جو جوان کر رہا تھا اس کا نام میجر پرویز مشرف تھاجو بعد میں پاکستان کے آرمی چیف بھی بنے ۔ اس طرح اللہ تعالی نے یہ عظیم سعادت پاکستان کو عطا کی۔ اللہ ہمارے ان روحانی مراکز مکہ و مدینہ کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ اور انہیں حاسدوں کے شر سے محفوظ و مامون رکھے۔آمین

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…