جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایک ایمان افروز اسلامی واقعہ

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

بادشاہ نے اپنے دوسرے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے کشتی میں بٹھا کر لے جاؤ اورسمندر میں پھینک آؤ یہ لوگ اس بچے کوساتھ لے کر چلے ۔بیچ سمندر کے پہنچ کر جب اسے پھینکنا چاہا تو پھر وہی دعا کی’’اے اللہ جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچا ‘‘۔دعا کے ساتھ ہی موج اٹھی اور سارے کے سارے سپاہی سمندر میں ڈوب گئے ،صرف وہی بچہ باقی بچا ۔پھر وہ بادشاہ کے پاس آیا اور کہنے لگا

’’میرے رب نے مجھے بچا لیا اور اے بادشاہ تو چاہے تو کتنی تدبیر یں بھی کرلے تو مجھے ہلاک نہیں کر سکتاصرف ایک صورت ہے جس طرح میں کہوں اگر تواس طرح کرے تو میری جان نکل سکتی ہے۔اس بچے نے کہا کہ تمام لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کر واور پھر کھجور کے تنے پرمجھے سولی چڑھا اور میرے تیر کو میری کمان پر چڑھا اور ’’بسم اللہ رب ھذاالغلام‘‘(یعنی اللہ کے نام سے جو اس بچے کا رب ہے)پڑھ کر تیر میری طرف پھینک وہ مجھے لگے گا اور میں مر جاؤں گا ۔بادشاہ نے یہی کیا۔تیر بچے کی کنپٹی میں لگا ۔اس نے اپنا ہاتھ اس جگہ رکھ لیا۔چاروں طرف سے یہ آوازیں بلند ہونے لگیں ،ہم اس بچے کے رب پر ایمان لے آئے۔یہ حال دیکھ کر بادشاہ کے ساتھی بڑے گھبرائے اور کہنے لگے کہ ہم تو اس بچے کی ترکیب سمجھے نہیں دیکھئے اس کا اثر کیا پڑا۔سب لوگ دین اسلام میں داخل ہو گئے۔ہم نے تو اسے اس لئے قتل کیا تھا کہ کہیں اس کا مذہب پھیل نہ جائے لیکن جو ڈر تھا سامنے آہی گیااور سب مسلمان ہو گئے۔بادشاہ نے کہا اچھا یہ کرو کی تمام محلوں اور راستوں میں خندقیں کھدواؤں اور اس میں لکڑیاں بھر وں اور آگ لگا دو جو اس دین سے پھر جائے چھوڑ دو اور جو نہ پھیرے اس کو ان خندقوں میں پھینک دوں۔ مسلمانوں نے صبر اور سہارے کے ساتھ آگ میں جلنا منظور کیا اور اس میں کودنے لگے البتہ ایک عورت جس کی گود میں دودھ پیتا بچہ تھا ،ذرائع جھجکی تو اس بچے کو اللہ نے بولنے کی طاقت دی اس نے کہا اماں کیا کر رہی ہے تم تو حق پر ہو صبر کرو اور اس میں کود پڑو۔(ریاض الصالحین )

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…