جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت ابوبکرصدیقؓ کا جنازہ جب روضہ رسولؐ کے سامنے رکھا گیا تو دروازہ خود بخود کھل گیا، جانئے خلیفہ اول کے سفر آخرت کا ایمان افروز واقعہ

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ رسول کریمﷺ کے وصال کے بعد مسلمانوں کے خلیفہ چنے گئے، آپؓ نے نبوت کے جھوٹے دعویداروں کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور نبوت پر نقب لگانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اپنی وفات سے قبل حضرت علیؓ کو وصیت فرمائی تھی کہ ان کو آخری غسل حضرت علیؓ دیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے

سفر آخرت کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں معروف عالم دین ثاقب رضا مصطفائی کا کہنا تھا کہ حضرت علیؓ وہ شخصیت تھے جنہوں نے نبی کریمﷺ کو وصال کے بعد غسل دیا تھا۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ غسل کے وقت کچھ پانی آپﷺ کے چشم خانوں میں ٹھہر گیا ، پہلے تو میں نے اس پانی کو روئی سے صاف کرنے کا سوچا مگر پھر خیال آیا کہ ایسا پانی مجھے اور کہاں سے ملے گا ، میں نے پھر ہونٹ قریب کر کے اس پانی کو نوش جان کر لیا ، حضرت علیؓ فرماتے ہیں وہ پانی نوش کرنے کے بعد میرا سینہ علوم معرفت کا خزینہ بن گیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھی وصیت فرماتے ہوئے حضرت علیؓ سے فرمایا تھا کہ اے علیؓ جب میں فوت ہو جائوں تو جن ہاتھوں سے رسول کریمﷺ کوغسل دیا تھا انہی ہاتھوں سے مجھے غسل دینا اور یہ بھی وصیت کی کہ مجھے نیا کفن نہ دینا، مجھے پھٹے پرانے کپڑوں میں کفن دیکر دفن کر دینا، اس لئے کہ نئے کپڑوں کا حقدار مرنے والے سے زیادہ جینے والا ہے، پھر فرمایا کہ جنازہ پڑھنے کے بعد میرے جسد خاکی کو اٹھا کر روضہ رسولﷺ کے پاس لے جانا اور عرض کرنا یا رسول اللہ ﷺ یہ ابوبکر ؓ ہے اگر اُدھر سے حاضری کا کوئی اشارہ مل جائے تو پھر حضورﷺ کے قدموں میں دفن کر دینا ورنہ جہاں باقی مسلمانوں کو دفنایا جاتا ہے جنت البقیع میں پھر مجھے وہاں دفن کر دینا، حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ جب آپؓ کا آخری وقت آیا تو حضرت علیؓ بھاگتے ہوئے آئےاور آپؓ کی زبان پر یہ لفظ تھے’انا للہ و انا الیہ راجعون‘اور آپؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے چہرے سے کپڑا اٹھایا، اور یہ لفظ کہے کہ’ الیوم ان قطعت خلافۃ النبوۃ‘یعنی آج رسول اللہ ﷺ کی خلافت ہم سے جدا ہو گئی، اس کے بعد حضرت صدیق اکبرؓ کو غسل دیا گیا ، اور غسل دینے کے بعد آپؓ کا جنازہ پڑھا گیا، اور پھر مدینہ انور کی گلیوں سے گھما کر رسول اللہﷺ کے روضہ مبارک کے سامنے رکھ دیا گیا، اور یہ لفظ حضرت انسؓ کے ہیں ، کہتے ہیں کہ ہم ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے، عرض کی کہ یار سول اللہﷺ یہ حضرت ابوب بکر ؓ ہیں ، آپ ﷺ کی قربت میں دفن ہونے کی اجازت مانگ رہے ہیں تو پھر ہم نے درود شریف پڑھنا شروع کر دیا، حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ روضہ رسول ﷺ کا دروازہ بند تھا اور تالا لگا ہوا تھا ، اچانک تالا کھلااور پھر کنڈی بھی کھل گئی اور دروازہ کھل گیا اور اندر سے آواز آئی کہ ’یار کو یار سے ملا دوجو پہلے ہی یار کا انتظار کر رہا ہے‘حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ کی قربت میں حضرت سیدنا صدیق اکبرؓکی تدفین کر دی گئی،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…