آپؓ کا نام عبداللہ، کنیت ابوبکرؓ اور لقب صدیقؓ ہے۔ آپؓ کے والد گرامی کا نام قحافہ تھا۔ آپؓ قبیلہ قریش کی شاخ بنی تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ چھٹی پشت سے آپؓ کا گھرانہ پاک پیغمبر حضرت محمد ﷺ سے جا ملتا ہے۔ آپؓ کا گھرانہ زمانہ جاہلیت ہی سے نہایت معزز تھا اور اسلام کے ابتدائی اور ارتقائی ادوار میں تو آپؓ نے وہ عظیم الشان خدمات و قربانیاں سرانجام دیں کہ جن کی مثال نہ تو کبھی آپؓ سے
پہلے مل پائی اور نہ ہی رہتی دنیا تک مل پانا ممکن ہے۔ آپؓ کے خاندانکی عظمت کی مثال یہ ہے کہ قریش کے نظام سیاسی میں خون بہا کے مال کی امانتداری کا عہدہ آپؓ ہی کے گھرانے کے ذمہ تھا۔ اسلام سے پہلے حضرت ابو بکر صدیقؓ کا پیشہ تجارت تھا۔ آپؓ ابتداء ہی سے سلیم الفطرت تھے چنانچہ زمانہ جاہلیت مٰں بھی آپ کا دامن اخلاقِ عرب کے عام مفاسد جیسے شراب نوشی، جوا، پانسے، سود خوری، بددیانتی، ریاکاری وغیرہ سے بالکل پاک تھا اور اسی زمانہ سے لوگوں پر آپؓ کے حسن خلق، راست بازی، متانت اور سنجیدگی کا سکہ بیٹھا ہوا تھا اور شرفائے مکہ میں آپؓ کو بڑی عزت وتکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ آپؓ تقریباً آنحصرتﷺ کے ہم عصر تھے۔طبیعت کی یکسانیت و سنجیدگی کی وجہ سے بچپن ہی سے دونوں میں گہرے تعلقات و روابط استوار ہو گئے تھے۔انہی روابط کی بنا پر دونوں ایک دوسرے کی سیرت اور اخلاق و عادات سے اچھی طرح واقفیت رکھتے تھے۔ چنانچہ جس وقت آنحضرتﷺ نے پہلی مرتبہ اسلام کی دعوت دی تو حضرت ابو بکر صدیقؓ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ، بنا کسی شک و شبہ کے اس کی تصدیق کی۔ مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد آپؓ نے اسلام کی تبلیغ میں آپ ﷺ کے دست راست بن گئے اور راہِ خدا میں جان و مال ، عزت و آبروسب کچھ نثار کر دیا۔ یہاں تک کہ میدانِ جنگ میں بھی کوئی دوسرا صحابیؓ آپؓ سے بازی نہ لے جا سکا۔ بعض مواقع پر گھر کا سارا اثاثہ خدا کی
راہ میں دے دیا، جب حضورِ اقدسﷺ نے پوچھا کہ کچھ اہل و عیال کے لئے بھی چھوڑا ہے؟ تو عرض کیا ان کے لئے اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی کافی ہے۔ (ترمذی مناقب ابی بکر) کسی صحابیؓ کی اسلامی خدمات آپؓ کے برابر نہیں۔ ان کی مختصر فہرست یہ ہے کہ قریش کے سن رسیدہ لوگوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا، مکہ کی پر خطر اور مظلومیت کی زندگی کے ہر مرحلہ میں آنحضرتﷺ کے
پشت پناہ رہے، تبلیغ اسلام میں آپ ﷺ کی رفاقت کرتے رہے، جہاں حضور اکرمﷺ تشریف لے جاتے، انہیں ساتھ لے جاتے اور دونوں اپنے جانے والوں سے ایک دوسرے کا تعارف کرواتے۔ (کنز العمال)۔حضرت عثمانؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ اور حضرت عثمان بن مظعونؓ جیسے اکابر صحابہؓ آپؓ کی کوششوں سے مشرف بہ اسلام ہوئے۔
(بخاری، باب مانفٰی النبیؐ و اصحاب من الشرکین)۔ الغرض آغازِ اسلام سے لے کر وفاتِ نبوی ؐ تک ہر مرحلہ میں حضرت ابو بکر صدیقؓ نے آنحضرت ﷺ کی جانثارانہ رفاقت کی۔ آپؓ پر انؓ کی قربانیوں کا اتنا اثر تھا کہ فرماتے تھے کہ ’’جان و مال کے لحاظ سے مجھ پر ابو بکر کے سوا کسی کا حق نہیں‘‘۔ (بخاری باب فضائل ابی بکر)۔حضور اقدسﷺ کی حیاتِ طیبہ میں آپؓ ہمہ وقت آپﷺ کے ساتھی و ہمنوا تھے۔
لیکن اصل امتحان حضور پر نورص کے رحلت فرما جانے کے بعد شروع ہوا۔ آپ ﷺ کا اس دنیا سے رحلت فرما جانا ہی آپؓ کے لئے اتنا بڑا صدمہ تھا کہ پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو کہ اس آفت ناگہانی پر صبر کی کوئی صورت نظر نہ آتی ہو، لیکن اس صورت میں بھی آپؓ کو خلافت کی ذمہ داری اٹھانا پڑی، آپؓ ابھی غم و دکھ کی شدید کیفیت سے گزر رہے تھے اور پاک پیغمبر کی تجہیز و تدفین بھی نہ ہوئی تھی کہ
سقیفہ بنی ساعدہ کا مسلہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اگر بغور جائزہ لیا جائے تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی جدوجہد اسلام کا حقیقی دور پاک پیغمبرﷺ کے اس دنیا سے رحلت فرما جانے کے بعد شروع ہواکیونکہ حضور اکرمﷺ کی صحبتِ طیبہ میں رہتے ہوئے تو پاکیزگی و راست بازی و جانثاری کا عالم ایک بندہ خدا کے لئے بجا سی بات ہے لیکن آپ ﷺ کے ناموجود ہوتے ہوئے اپنی خصوصیات کو برقرار رکھنا اور خدمات پر جمے رہنا
اور عظیم الشان کارنامے سرانجام دینا بہت بڑی بات ہے۔ رحلتِ محبوبِ خدا ﷺ کے بعد جو سب سے پہلی مشکل پیش آئی اسے تاریخ میں سقیفہ بنی ساعدہ کے نام سے رقم کیا گیا ہے۔ مدینہ میں منافقوں کی جماعت جن کا اچعار دوستی کے پردہ میں اسلام کا شیرازہ بکھیرنا تھا، ہمیشہ سے موجود تھی اور ہر موقع پر انی اسلام دشمنی کا ثبوت دیتی تھی۔ چونکہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کو اپنا جانشین نامزد نہیں فرمایا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد اس جماعت کو فتنہ انگیزی کا موقع مل گیا۔ چنانچہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد
تجہیز و تکفین سے پہلے ہی منافقین کی سازش سے آپﷺ کی جانشینی کا مسلہ چھڑ گیا اور انصار نے سقیفہ بن ساعدہ میں جمع ہو کر جانشینی کا دعویٰ کیا۔ یہ مسلہ ایسے نازک وقت چھڑا تھا کہ اگر فوراً اس کا تدارک نہ کیا جاتا تو بڑی نازک صورتحال پیدا ہو جاتی ۔ لیکن حضرت ابو بکرؓ کو بروقت اس کی اطلاع ہو گئی اور آپؓ فوراً حضرت عمرؓ اور امین الامت حضرت ابو عبیدہؓ بن جراح کو ساتھ لے کر
سقیفہ بنی ساعدہ پہنچے، یہاں دیکھا تو دوسرا ہی گل کھلا ہوا تھا، انصار مدعی تھے کہ آنحضرتؐ کی جانشینی میں انہیں بھی حصہ ملنا چاہئے اور قریش کے ساتھ ان کی جماعت کا بھی ایک امیر نائب الرسولؐ ہونا چاہئے لیکن ایک شخص کے دو جانشین ہونے کے نتائج بالکل ظاہر ہیں اس لئے اس صورت کو قبول کرنے کے معنی خود اپنے ہاتھوں سے اسلامی نظام درہم برہم کرنے کے تھے۔ یہ ہو سکتا تھا کہ
تنہا انصاریوں کو ہی یہ منصب مل جاتا لیکن اس میں دقت تھی کہ اولاً قریش خود قریش، پھر دوسرے عرب قبائل قریش کے علاوہ اور کسی خاندان کے سامنے سر نہیں جھکا سکتے تھے۔ پھر انصاریوں میں اوس و خزاج دو مقابل جماعتیں موجود تھیں، ان میں سے جسے بھی یہ منصب دیا جاتا دوسرا اسے قبول نہ کرتا اور پھر نتیجتاً مواخاتِ مدینہ کے ذریعے اوس و خزاج کے درمیان جس لڑائی جھگڑے کو ختم کر کے مواخات کا رشتہ قائم کیا گیا تھا، وہ پھر سے جنم لے لیتا اور یوں اسلامی مملکت میں ایک نیا فساد برپا ہو جاتا اور اسلامی انقلاب درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔

























