حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضورﷺ کے ساتھ مکہ معظمہ کے مضافات میں گیا تو میں نے دیکھا کہ راستے میں ہر درخت ہر ڈھیلہ و پتھر اور ہر پہاڑ حضورﷺ کو مخاطب کرکے یوں عرض کرتا رہا ۔
السلام علیکم یا رسول اللہ اور ان کی یہ آواز میں بھی سنتا تھا۔(حجۃ اللہ علی العالمین ص440):سبق،ہمارے حضور ﷺ کی رسالت کو کائنات کا ہر ذرہ جانتا ہے اور حضور ﷺ کے ’’رسول اللہ‘‘ ہونے کا درختوں اور پتھروں کو بھی علم ہے ۔پھر جو لوگ حضور ﷺ کی رسالت پر ایمان نہ لائے ۔وہ پتھروں سے بھی گئے گزرے ہوئے یا نہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ السلام علیک یا رسول اللہ کا ورد تو درختوں،پتھروں اور پہاڑوں کی زبانوں پر بھی ہے ۔ پھر جو لوگ اس درود مبارک پڑھنے سے روکتے ہیں ۔ان سے تو نباتات و جمادات ہی اچھے رہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جس طرح پتھر اور درخت نہ بولنے والی چیزیں حضور ﷺ کیلئے بول اٹھیں اور یہ حضور ﷺ کا معجزہ ہے ۔اسی طرح جو آواز بہت دور سے نہ سنی جا سکتی ہو۔اس آواز کو دور سے سن لینا یہ بھی حضور ﷺ کا معجزہ ہے ۔ اسی لئے ہمارا ایمان ہے کہ ہم چاہئے کہیں سے بھی ، السلام علیک یا رسو ل اللہ پڑھیں ۔ حضور ﷺ اپنے اعجاز سے ہماری آواز سن لیتے ہیں۔

























