حضرت عبداللہ تستریؒ کا وصال ہو گیا تو لوگ بڑی کثرت کے ساتھ ان کے جنازہ میں شریک ہوئے۔ شہر میں ایک بوڑھا یہودی تھا۔ اس نے شور وغل سنا تو باہر نکلا تاکہ دیکھے کہ یہ شور کیسا ہے۔ جب باہر نکلا تو اس نے ایک عجیب منظر دیکھا اور پھر لوگوں سے پکار کر کہنے لگا۔ ’’اے حاضرین! ذرا اوپر بھی دیکھو کہ کیا نظارہ ہے۔‘‘ لوگوں نے کہا کہ
’’اوپر کیا ہے۔‘‘ وہ بولا کہ ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ آسمان پر سے بھی ایک قوم اتر رہی ہے اور اس جنازے سے برکت حاصل کر رہی ہے۔‘‘ پھر بولا۔ ’’لوگو! گواہ رہو۔ میں مسلمان ہوتا ہوں، پھر وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔‘‘ (درۃ الناصحین صفحہ 494) اس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ اللہ والوں کی موت بھی لوگوں کے لیے رحمت ہوتی ہے۔

























