حضرت لقمان سے ایک روز ان کے آقا نے کہا کہ آج ایک بکری ذبح کرو اور جو چیز اس کی سب سے زیادہ بری ہو۔ وہ میرے پاس لاؤ، حضرت لقمان نے بکری ذبح کی اور اس کے دل اور زبان کو آقا کے سامنے پیش کر دیا۔
دوسرے روز ان کے آقا نے پھر کہا کہ آج بھی ایک بکری ذبح کرو اور جو چیز اس کی سب سے زیادہ اچھی ہو۔ وہ لے آؤ۔ حضرت لقمان نے ایک بکری ذبح کی اور آقا کے سامنے پھر بھی دل اور زبان ہی کو پیش کر دیا۔ آقا نے وجہ دریافت کی تو بولے۔ ’’یہ دونوں چیزیں بدترین بھی ہیں اور بہترین بھی، اگر یہ بگڑ جائیں تو ان سے زیادہ بُری چیز اور کوئی نہیں اور اگر یہ سنور جائیں تو ان سے زیادہ اچھی چیز اور کوئی نہیں۔‘‘ (مغنی الواعظین ص 118)۔ اس بات سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ دل اور زبان، ان دونوں کو اپنے قابو میں رکھنا چاہیے کیونکہ برائی کے منبع یہی ہیں۔ اگر یہ بگڑ گئے تو ہلاکت ہی ہلاکت ہے اور اگر یہ سنور گئے تو برکت ہی برکت ہے۔ حضورؐ کا دل کے متعلق ارشاد ہے کہ بدن کا یہ ٹکڑا بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر یہ بگڑ جائے تو سارا بدن ہی بگڑ جاتا ہے اور اگر یہ سنور جائے تو سارا بدن ہی سنور جاتا ہے اور زبان کے متعلق ارشاد فرمایا کہ جو اس کی مجھے ضمانت دے یعنی اسے قابو میں رکھنے کی اور غیر شرعی گفتگو سے اسے باز رکھنے کی مجھے ضمانت دے تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘ پس ہمیں دل اور زبان کی طرف نگاہ رکھنی چاہیے اور انہیں اچھا بنانا چاہیے۔

























