جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت علی اکبرؓ کی شہادت 

datetime 10  فروری‬‮  2019 |

حضرت امام حسینؓ کے صاحبزادے حضرت علی اکبرؓ جب میدان کار زار میں تشریف لائے تو لشکر میں ایک سناٹا چھا گیا۔ حضرت علی اکبرؓ اٹھارہ سال کی عمر شریف رکھتے تھے اور شکل و شمائل میں حضورؐ سے بہت مشابہ تھے۔ آپ کا حسن و جمال و جلال دیکھ کر دشمن متحیر ہو گئے،

حضرت علی اکبرؓ میدان میں پہنچتے ہی رجز خواں اور مبارز طلب ہوئے اور جب کوئی سامنے نہ آیا تو آپ نے خود ہی لشکر میں گھس کر حملہ کر دیا اور دشمنوں کو درہم برہم کر دیا اور کافی دیر تک لڑتے رہے اور پھر پیاس کے باعث حضرت امام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پیاس کا ذکر کیا۔ حضرت امامؓ نے ان کے چہرے کا گرد و غبار صاف کرکے رسول اللہؐ کی انگشتری ان کے منہ میں ڈال دی، جس کے چوسنے سے انہیں تسکین ہوئی اور پھر میدان میں آئے اور اکثر کو واصل جہنم کرنے کے بعد آپ پھر ایک مرتبہ حضرت امامؓ کے حضور آئے اور پیاس کا ذکر کیا تو حضرت امامؓ نے اس وقت رو کر فرمایا کہ جانِ پدر! غم نہ کھا عنقریب تم حوضِ کوثر پر سیراب ہو گے۔ علی اکبرؓ یہ بشارت سن کر پھر میدان کی طرف تشریف لائے اور دشمن کے لشکر میں گھس کر بہت سوں کو واصل جہنم کیا۔ دشمنوں نے چاروں طرف سے آپ کو گھیر لیا اور ایک ظالم ابن نمیر نے آپ کو ایسا نیزہ مارا کہ آپ کی پشت مبارک سے پار ہو گیا اور آپ گھوڑے سے گر گئے اس وقت آپ نے حضرت امامؓ کو پکارا اور فرمایا: ’’ابا جان! اپنے علی اکبر کی خبر لیجئے۔‘‘ حضرت امامؓ نے اپنے لختِ جگر کی یہ آواز سنی تو آپ دوڑے اور میدان میں جا کر دیکھا کہ علی اکبرؓ زخموں سے چور زمین پر گرے ہوئے ہیں۔ حضرت امامؓ نے وہاں بیٹھ کر بیٹے کا سر اپنے زانو پر رکھا۔ حضرت علی اکبرؓ نے آنکھیں کھول کر کہا ’’ابا جان! وہ دیکھئے! دادا جان دو پیالے شربت کے لیے کھڑے ہیں اور مجھے ایک دے رہے ہیں میں کہتاہوں کہ مجھے دونوں دیجئے کہ بہت پیاسا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک تو پی دوسرا تیرے باپ حسینؓ کے لیے ہے کہ وہ بھی پیاسا ہے۔ یہ پیالہ وہ آ کر پئے گا یہ کہا‘‘ اور آپ وہیں راہی جنت ہو گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…