ایک شخص نے کچھ دوستوں کو دعوت پر بلایا۔ جب سب مہمان دستر خوان پر بیٹھ چکے تو اس نے نوکر کو الگ لے جا کر حکم دیا کہ سب کے جوتے بازار میں چپکے سے لے جا کر بیچ دے اور اس رقم سے کھانا خرید لاؤ۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، لوگوں کے سامنے جب کھانا آیا تو انہوں نے اس کی تعریفوں کے پُل باندھ دیے وہ شخص ہنستا جاتا تھا اور کہتا تھا کہ حضور بھلا میں کس لائق ہوں، یہ سب آپ کی ہی جوتیوں کا صدقہ ہے۔
جب کھانا ختم ہوا اور مہمان جانے لگے تو انہیں اپنے جوتے غائب ملے۔ اُس ستم ظریف نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ بھائی! میں تو پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ یہ سب آپ کی جوتیوں کا صدقہ ہے، کچھ ایسا ہماری ہی جوتیوں کا صدقہ ہمارے حکمران ہمارے منہ پے مارتے ہیں۔ ہمارے ہی ٹیکس کے پیسوں سے سڑکیں، ہسپتال بناتے ہیں اور پھر اس کا احسان ہم پہ چڑھانے ایسے آ جاتے ہیں جیسے یہ ان کے باپ کے پیسے تھے۔

























