جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

پھانسی

datetime 30  جنوری‬‮  2019 |

کالم نگار شورش کاشمیری نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ  مجھے پھانسی پانے والے قیدیوں سے خاصی دل چسپی رہی ، میں ان سے طرح طرح کے سوالات پوچھتا رہا ، میرے سامنے کوئی پانچ چھ سو قیدی تختہ دار پر لٹکے ہوں گے، ان میں صرف دو بے گناہ تھے، ایک نے کہا کہ اس نے کوئی قتل نہیں کیا، جس میں وہ پھانسی لگ رہا ہے، البتہ اس سے پہلے وہ ایک قتل کر چکا ہے، لیکن اس میں رہا ہو گیا تھا، دوسرا پھانسی کے تختہ پر چلا چلا کر کہتا رہا میں بے گناہ ہوں،

گواہ رہنا میں بے گناہ ہوں ، میں نے قتل نہیں کیا ، تھانیدار نے قاتلوں سے رشوت لے کر مجھے پھانسی لگوا دی ہے، میں بے گناہ ہوں ، باقی جتنے قیدی بھی میرے سامنے پھانسی پاتے رہے میں ان کے ہاتھوں کی ریکھا بھی دیکھتا رہا اور پوچھتابھی رہا ، وہ تسلیم کرتے تھے کہ وہ ناحق پھانسی نہیں پا رہے، انہوں نے قتل کیا ہے، عام طور پر قتل کے محرکات میں ذاتی عداوتیں ، خاندانی بدلے ، ڈاکہ اور اسی قسم کے دوسرے اسباب مضمر ہوتے ہیں ۔ اپنی ذات سے باہر کسی عشق یا مقصد کے لیے شاذ ہی کوئی جان دیتا ہے ، اسی صوبہ کے ایک قصبہ پلول میں ایک ہندو سرکاری سرجن تھا، جس نے اپنے گدھے کا نام  نعوذبااللہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے نام پر رکھا تھا، ایک مسلمان نوجوان نے اسے قتل کر ڈالا ۔ عدالت نے اسے سزائے موت کا حکم سنایا جو آخر تک بحال رہا، اس کے پھانسی پانے کے ایک دن پہلے میں اسے ملا، وہ چھریرے بدن کا ایک خوبصورت نوجوان تھا، بڑا مطمئن تھا، مطلقا پشیمان یا ہراساں نہ تھا، اسے یقین تھا کہ وہ بارگاہ رسالت مآب میں حاضر ہو رہا ہے، چنانچہ بڑی جواں مردی کے ساتھ تختہ پر گیا ، بڑے اطمینان کے ساتھ جان دی ، مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم (فداہ ابی و امی ) سے جو عشق ہے ، اور اسلام کے آثار و مظاہر سے جو محبت ہے وہ شاید ہی کسی پیرو مذبب کو اپنی ہادی یا مذہب سے ہو ، مسلمانوں نے ١٨٥٧ سے لے کر تحریک خلافت ١٩٢٠ تک ذوق و شوق سے دار و رسن کو لبیک کہا ،

اور جواں مردی کے بڑے بڑے نشان چھوڑے ، اس کے بعد بھی مسجد شہید گنج کے انہدام پر ( رہ نماؤں کے اغراض مشؤمہ سے قطع نظر ) نوجوانوں نے جس دلیری سے دو روز تک گولیاں کھائیں ، اور متواتر اڑتالیس گھنٹے تک مورچہ باندھے رکھا بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ قرن اول کے غزوات ہی کا عکس تھا، ہم جہاد و قربانی کے جو معرکے کتابوں میں پڑھتے ہیں ، اس کی تصویر سے اس کی نظیر مختلف ہو جاتی ہے، کہ یہاں ایک طرف حکومت کے جبر واستعداد کا سر وسامان تھا، دوسری طرف نہتے نوجوانوں کا شوق شہادت جو انہیں کھنیچ کھینچ کے گولیوں کے سامنے لایا تھا ۔
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لائیک اور شیئر کریں‎‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…