ایک مرتبہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک آدمی آیا‘ وہ کہنے لگا حضرت! ذکر و اذکار اور عبادات میں زندگی گزر گئی ہے مگر میرا دل ایک تمنا کی وجہ سے جل رہا ہے‘ جی چاہا کہ آج آپ کے سامنے وہ تمنا ظاہر کر دوں‘ آپ نے پوچھا‘ کون سی تمنا ہے؟ کہنے لگا حضرت! امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کو خواب میں سو مرتبہ اللہ کا دیدار ہوا تھا‘
میرا بھی جی چاہتا ہے کہ مجھے بھی اپنے خالق کا دیدار نصیب ہو جائے۔
حاجی صاحب بھی حاذق طبیب تھے‘ فرمانے لگے‘ اچھا تم آج عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے سو جانا اس میں حکمت تھی مگروہ بندہ نہ سمجھ سکا وہ گھر آیا جب مغرب کے بعد وقت ہوا تو سوچنے لگا کہ حضرت نے فرمایا تھا کہ تم عشاء کی نماز پڑھے بغیر ویسے ہی سو جانا لیکن فرض تو بالآخر فرض ہے چلو میں فرض پڑھ کر سنت چھوڑ کر سو جاؤں گا اور بعد میں پڑھ لوں گا‘ چنانچہ وہ فرض پڑھ کر سو گیا۔ رات کو خواب میں اسے نبیﷺ کی زیارت ہوئی آپؐ نے اسے فرمایا! تم نے فرض تو پڑھ لئے مگر سنتیں کیوں نہ پڑھیں ‘ اس کے بعد اس کی آنکھ کھل گئی‘ صبح آ کر اس نی حاجی صاحب کوبتایا‘ حاجی صاحب نے فرمایا۔ تو نے اتنے سال نمازیں پڑھتے گزار دیئے بھلا اللہ تیری قضا ہونے دیتے‘ کبھی ایسا نہ ہوتا بلکہ وہ تیرے عملوں کی حفاظت فرماتے‘ اگر تو مغرب کے بعد سو جاتا تو خواب میں اللہ تعالیٰ کادیدار بھی ہوتا وہ تجھے جگا بھی دیتے اور تجھے شاء کی توفیق بھی عطا فرما دیتے مگر تو راز کو نہ سمجھ سکا تو نے فقط سنتیں چھوڑیں تو محبوبﷺ کا دیدار ہوا اگر تو فرض چھوڑ دیتا تو تجھے اللہ تعالیٰ کادیدار نصیب ہو جاتا۔

























