ایک بوڑھا شخص جس کا اگرچہ دنیا میں کوئی نہ تھا لیکن وہ بدتمیزی, بدزبانی اور بد اخلاقی کی وجہ سے مشھور تھابڑے گھر میں اکیلا رہنے اور لوگوں کے اس رویہ کیوجہ سے وہ پہلے سےبھی زیادہ غصیلا, چڑچڑا اور بداخلاق ھو گیا تھاایک دن ایک غریب بچہ جو نیا شھر میں آیا تھا اور کوڑا کرکٹ جمع کرتا تھا اس بوڑھے کے گھر کے سامنے سے گزرا, بوڑھا باغ کی صفائی میں مصروف تھا , بچے نے بوڑھے کی طرف نگاہ اٹھائی اور بے ساختہ بوڑھے کو دیکھا کر مسکرایا اور ادب سے سلام کیا
بوڑھا شخص جسکی طرف شاید چند سالوں سے کسی نے مسکرا کر نہ دیکھا تھا بہت خوش ھواآج بچے کی مسکراہٹ کا قطرہ بوڑھے کے بنجر دل پر آب حیات بن کر گرا اور اس نے بچے کو بلایا اور مسکرانے کی وجہ دریافت کی تو بچہ بولا میری ماں نے کہا ہے کہ اگر زندگی میں کامیاب ھونا چاھتے ھو تو ھمیشہ دوسروں کو پہلا تحفہ مسکراہٹ کا دو, مسکراہٹ وہ جنس ہے جس پر آپکا کوئی خرچ نھی ھوتا لیکن اس کا منافع بہت زیادہ ھوتا ہے, بوڑھا خوش ھوا اور بچے کو انعام دیااور پھر ھر روز بچہ مسکرا کر بوڑھے کو سلام کرتے ھوے گزرتا یہاں تک کہ ایک دن بچے کے گھر ایک وکیل آیا اور بولا آج فلاں بوڑھا شخص مر گیا ہے اور اسنے اپنی جائیداد اس بچے کے نام کر دی ہے اور اپنی وصیت میں لکھ گیا ہے کہ اس کی قیمت چند مسکراہٹوں کے ذریعے ایڈوانس ادا ھو چکی ہےمظبوط ترین لوگ وہ ھوتے ھیں جو مشکل ترین لحظ میں بھی مسکرانا نھی بھولتے, دل میں غموں کا دریا بھی ھو تو آنکھ سے ایک قطرہ نھی نکلتایاد رکھیں گزر جانے والے” کل” کروڑوں تھےاور آنے والے” کل “بھی کروڑوں ھوں گےلیکن ” آج ” فقط ایک ھی ھےآج مسکراؤ اور خوش رہو کہ یہ پھر نھی آیے گاذرا اپنے آپ سے سوال کرو کہ مجھے پوری طرح کُھل کر زور سے ہنسے ھوے کتنا عرصہ ھو چکا ہے ؟یاد رکھیں جو ہنسنے مسکرانے کیلئے دلیل کے پیچھے رھتا ھے وہ کھبی مسکرا نھی سکتا فقط ایک چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ انسانوں کو خوش رکھنے کیلئے اللہ کو ناراض نہ کیا جاے اگر زندگی میں کامیابی چاھتے ھو تو ھمیشہ اپنے ھونٹوں پر دو چزیں رکھومسکراھٹ و خاموشی

























