خصوصی تحریر:جاوید چودھری
میں دوبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا تو مجھے محسوس ہوا میں جدید دنیا میں آگیا ہوں‘ ائیرپورٹ سے گرینڈ حیات ہوٹل تک روشنی ہی روشنی‘ خوبصورتی ہی خوبصورتی اورامن ہی امن تھا‘ گاڑیوں کی طویل قطاریں اورعمارتوں پر جلتی بجھتی روشنیاں خوشحالی اورترقی کی نوید سنا رہی تھیں‘ ہماری گاڑی دوبئی کی مرکزی شاہراہ جبل علی سے گزر رہی تھی اور میں سوچ رہا تھا کیاآج اس شاہراہ پر کھڑے ہوکر کوئی سوچ سکتا ہے
1980ء تک اس جگہ ریت کے ٹیلے ‘اونٹوں کے ریوڑ اورخشک جھاڑیاں ہوتی تھیں‘ یہاں خاک اڑتی تھی اورغربت اور بے بسی کاشت ہوتی تھی لیکن پھر اس ملک‘ اس شہر کو ایک وژنری شخص ملااور اس وژنری شخص نے ریت کے ان ٹیلوں کا مقدر بدل دیا‘ اس نے ویرانے کو دنیا کے جدید ترین شہر میں تبدیل کردیا اس وژنری شخص کا نام شیخ محمد بن راشد المختوم تھا۔ شیخ محمد1949ء میں پیدا ہوئے تھے‘وہ دوبئی کے سلطان شیخ راشد المختوم کے تیسرے صاحبزادے تھے‘ ان کی ابتدائی زندگی عربی شیخوں کی روایتی ثقافت کے مطابق گزری‘ وہ بچپن میں اپنے بھائیوں اور کزنوں کے ساتھ کھیلتے کودتے رہتے تھے‘ اونٹوں پر بیٹھ کر ریس لگاتے تھے یاپھر صحرا میں ہرن کے پیچھے بھاگتے تھے ‘4 سال کی عمر میں انہوں نے گھر پر عربی اور اسلام کی تعلیم شروع کی‘1955ء میں ان کی باقاعدہ تعلیم شروع ہوئی‘ انہیں دوبئی کے الاحمدیہ سکول میں داخل کرادیاگیا‘ انہوں نے اس سکول میں عربی‘ انگریزی‘ ریاضی‘ جغرافیہ اور تاریخ کی ابتدائی تعلیم حاصل کی‘ دس سال کی عمر میں وہ الشہاب سکول میں داخل ہوگئے ‘ وہ دو سال تک اس سکول میں پڑھتے رہے‘ اس کے بعد انہیں دوبئی کے سیکنڈری سکول میں داخل کرادیاگیا‘ شیخ محمد کے والد شیخ راشد المختوم انہیں فوجی بنانا چاہتے تھے‘ ان کی خواہش تھی شیخ محمدعسکری تعلیم حاصل کریں‘
جس کے بعدانہیں لندن یا امریکہ کی کسی ملٹری اکیڈمی میں داخل کرادیاجائے اوروہاں سے واپس آکروہ دوبئی کی فوج کی کمان سنبھال لیں‘ شیخ کی اس خواہش کا پس منظر بہت دلچسپ تھا‘ شیخ کا خاندان کئی نسلوں سے تجارت سے وابستہ تھا‘تجارت وراثت کی شکل میں ان کے خاندان میں منتقل ہوتی جارہی تھی‘ ان کے تین بیٹے تجارت سے منسلک تھے لہٰذا ان کی خواہش تھی ان کا ایک بیٹا سپہ سالار بنے لیکن شیخ محمد کا رجحان ذرا مختلف تھا‘ وہ آرٹ‘ زبان اور فنون لطیفہ میں دلچسپی لیتے تھے‘
جب شیخ نے انہیں اعلیٰ تعلیم کے لئے برطانیہ بھیجنے کا فیصلہ کیاتو شیخ محمد نے انگریزی زبان میں داخلہ لینے کا اعلان کردیا‘ شیخ نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ ہٹ کے پکے تھے لہٰذا مجبوراً شیخ راشد کو ان کی بات ماننا پڑی۔ یوں شیخ محمد اپنے کزن شیخ محمد بن خلیفہ المختوم کے ساتھ برطانیہ چلے گئے‘ وہاں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی کے بل کالج میں انگریزی زبان میں داخلہ لے لیا‘ جس دن انہوں نے کیمبرج میں قدم رکھاتھا اس دن ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا‘
یہ واقعہ آگے چل کر دوبئی جیسے جدید اور خوبصورت شہر کی بنیاد بنا۔ یہ شیخ محمد کاکلاس میں پہلا دن تھا ‘سب طالب علم ایک دوسرے کو اپنا تعارف کرا رہے تھے‘ جب شیخ محمد نے اپنا تعارف کرایا تو جنوبی امریکہ کے کسی طالب علم نے ان سے پوچھا ’’آپ انگریزی سیکھ کر کیا کریں گے‘‘ وہاں کلاس میں چین کا ایک طالب علم بھی تھا اس نے شیخ پر پھبتی کسی ’’یہ اونٹوں کو انگریزی سکھائیں گے ‘‘کلاس روم میں ایک قہقہہ گونجا‘ اس قہقہے اور چینی طالب علم کی پھبتی نے شیخ کو سوچنے پر مجبور کردیا‘ شیخ نے سوچا دنیا عربوں کو بدو سے زیادہ حیثیت نہیں دیتی‘ اس وقت اس کلاس روم میں بیٹھے بیٹھے انہوں نے فیصلہ کیا وہ دوبئی کو ایک ایسی ریاست بنائیں گے‘ جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ہوگی ٗ
لوگ اس کا حوالہ دیا کریں گے‘ شیخ محمد کا یہ عزم آگے چل کر آج کے دوبئی کی بنیاد بنا۔ شیخ محمدجتنا عرصہ یورپ رہے وہ وہاں کے نظام کا معائنہ کرتے رہے‘ وہ چھٹی کے دن یورپ کے دوسرے ممالک او رشہروں میں نکل جاتے اور وہاں جا کر ان کے طرز تعمیر‘ ان کے حکومتی اور سرکاری نظام‘ ان کی تجارت‘ ان کے بینکوں‘ ان کے ویلفیئر سسٹم اور ان کی طرز گفتگو کا مطالعہ کرتے‘ وہ یورپ کی ٹیکسیوں‘ بسوں اور ریلوں میں بیٹھ کر ان کا نظام دیکھتے‘ وہ ان کے ائیرپورٹس اور گودیوں کاسسٹم دیکھتے‘
وہ ان کے سیوریج‘ بجلی اور پانی کے نظام کا مطالعہ کرتے اور وہ ان کے سکولوں‘ ہسپتالوں اور ڈاک خانوں کا جائزہ لیتے جب وہ یورپ کا سارا نظام سمجھ گئے تو انہوں نے نتیجہ نکالا جب تک کسی ملک کا جسٹس سسٹم بہتر نہیں ہوتا ‘وہ ملک ترقی نہیں کرتا‘ جب تک اس ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہوتی وہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا‘ جب تک اس ملک میں اعتدال پسندی اور روشن خیالی نہیں آتی‘ جب تک اس ملک میں مسجد اورتفریح گاہیں دونوں نہیں بنتیں اور جب تک لوگوں کو ان کی ضرورت کے مطابق رقم اور بنیادی سہولتیں نہیں ملتیں اس وقت تک ملک ترقی نہیں کر سکتا‘ وہ واپس دوبئی آئے اور انہوں نے نئے دوبئی کی بنیاد رکھنا شروع کر دی۔
اس وقت تک متحدہ عرب امارات میں تیل نکل چکاتھا اور شیخ زاہد بن سلطان النہیان ایک انقلابی جذبے کے ساتھ امارات کی ترقی اور استحکام کا کام شروع کر چکے تھے‘ شیخ محمد نے آگے بڑھ کر زیادہ تر کام اپنے ہاتھ میں لے لیا‘ انہوں نے اسلامی معاشرے کو اعتدال کی راہ پر ڈالا‘ انہوں نے شرابیوں کے لئے بہترین شراب خانے‘ جواریوں کے لئے انتہائی جدید جواء خانے اور نمازیوں کے لئے دنیا کی بہترین مسجدیں بنائیں‘ انہوں نے دنیا جہاں کے سرمایہ کاروں کو دعوت دی اوران کیلئے دوبئی کی سرزمین کھول دی‘
انہوں نے دیکھا مشرق اور مغرب کے درمیان کوئی جدید شہر موجود نہیں چنانچہ مشرقی ممالک کے امراء کو علاج‘ تعلیم‘ تفریح‘ شاپنگ‘ کاروبار اور عیاشی کے لئے لندن‘ پیرس اور نیویارک جانا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں ہر سال مشرق سے اربوں ڈالر مغرب چلے جاتے ہیں‘انہوں نے سوچا اگر مشرقی ممالک کے امراء کے لئے چند گھنٹوں کی ڈرائیو اور مختصر سی فلائٹ پر ایک ایسا شہرموجود ہو جو کسی بھی طرح یورپ اور امریکہ سے کم نہ ہوتوان اربوں ڈالرز کا رخ مشرق کی طرف پھیرا جاسکتا ہے لہٰذا آج حالت یہ ہے دنیا میں سب سے اچھی اور سستی تعلیم دوبئی میں ملتی ہے‘ دنیا میں سب سے زیادہ شاپنگ‘
سب سے زیادہ علاج اور سب سے زیادہ تفریح دوبئی میں ملتی ہے‘ دوبئی دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ سنٹر ہے‘ دوبئی میں دنیا کا سب سے مہنگا ہوٹل موجود ہے‘ دوبئی میں سب سے زیادہ مساج پارلر ہیں‘ دوبئی دنیا کا سب سے بڑا ائیرپورٹ اور دنیا کی سب سے بڑی تفریح گاہ ہے‘ یہ سب ایک شخص کے وژن اور محنت کا نتیجہ ہے اوراس شخص کا نام شیخ محمد بن راشد المختوم ہے۔ میں شیخ محمد بن راشد المختوم کے شہر میں تین دنوں کیلئے آیا ہوں‘ دوبئی پہنچ کر میں نے محسوس کیا‘ اگر انسان کے پاس وژن ‘محنت اورحوصلہ ہو تو وہ ریت کے ٹیلوں کوبھی سونا بنا سکتا ہے‘ میری گاڑی میں دوبئی کے بارے میں ایک کتابچہ پڑا تھا‘
میں نے اس کی ورق گردانی شروع کردی‘ اس کتابچے میں شیخ محمد بن راشد المختوم کا ایک قول درج تھا‘ شیخ نے فرمایا تھا ’’ترقی کیلئے انصاف اتنا ہی ناگزیر ہے جتنا جانداروں کیلئے آکسیجن‘‘ میں نے شیشے سے باہر دیکھا‘ باہر حد نظر تک ترقی ہی ترقی ‘خوشحالی ہی خوشحالی تھی‘ میں نے پردہ کھینچ دیا‘ آنکھیں بند کیں اوردل میں سوچا کاش یہ بات کوئی شخص ہمارے ان حکمرانوں کو سمجھادے جو انصاف کے بغیر ملک کو ترقی دینا چاہتے ہیں جو کیکر کے جنگل میں کپاس بونا چاہتے ہیں جو جھیلوں کی کائی پر جمناسٹک کھیلنا چاہتے ہیں‘کاش کوئی ہمارے حکمرانوں کو یہ سمجھا دے انصاف اور قانون کے بغیر معاشرے اس طرح ہوتے ہیں جس طرح پانی کے بغیر دریا‘ جس طرح چاندنی کے بغیر چاند۔

























