بفرڈ امریکا کی ریاست وایومنگ کا ایک خوبصورت ٹاؤن ہے، اس ٹاؤن کا کل رقبہ 4 مربع کلومیٹر ہے اور یہ ٹاؤن 1866ء میں بفرڈ کے نام سے متعارف ہوا۔بفرڈ ایک پہاڑی پر آباد ہے، یہ سطح سمندر سے 8 ہزار فٹ بلند ہے اور اس ٹاؤن میں چاروں موسم اپنا رنگ بکھیرتے ہیں۔بفرڈ ٹاؤن کی خصوصیت ڈان سم مونز نامی شہری ہے،
یہ 62برس کا بوڑھا شخص ہے، شاپ کیپر ہے مگر یہ اس گاؤں کا اکیلا باشندہ ہے، پورے ٹاؤن کی آبادی صرف ڈان سم مونز ہے، یہ 1980ء میں اپنی فیملی کے ساتھ یہاں آیا، گھر بنایا اور مستقل رہائش پذیر ہو گیا، 1992ء میں اس نے پورا گاؤں خرید لیااور یہ فیملی قدرتی ماحول میں زندگی سے لطف اندوز ہونے لگے تاہم 1995ء میں اس کی بیوی انتقال کر گئی، اکلوتا بیٹابھی 2007ء میں بفرڈ چھوڑ کر کولوراڈو چلا گیا اور ڈان سم مونز اس گاؤں کا اکیلا رہائشی بن کر رہ گیا۔ یہ شائد دنیا کا واحد ٹاؤن ہے جس کی آبادی صرف ایک فرد پر مشتمل ہے مگر دلچسپ اور سبق آموز حقیقت یہ ہے کہ اس گاؤں میں دنیا کی تمام سہولیات دستیاب ہیں۔ وایومنگ کی حکومت نے اس گاؤں میں صرف ایک شخص کو زندگی کی تمام سہولیات فراہم کر رکھی ہیں‘ ٹاؤن تک ریلوے لائن بچھی ہے، ریل گاڑی روزانہ ٹاؤن سٹیشن تک آتی اور جاتی ہے، روڈ کے ذریعے ٹاؤن کو شہر سے جوڑا گیا، پوسٹ آفس قائم کیاگیا، پٹرول پمپ لگایاگیا، گیس سٹیشن قائم کیا گیا، بجلی پہنچائی گئی، ٹیلی فون کی سہولت موجود ہے، انٹرنیٹ کیبل بچھی ہے، واٹر سپلائی ہے اور سیوریج کی باقاعدہ لائنیں ڈالی گئی ہیں اور یہ ساری سہولیات صرف ایک ڈان سم مونز کیلئے کی گئیں۔ یہ امر بھی دلچسپی سے کم نہیں کہ میونسپل کی گاڑیاں روزانہ بفرڈ جاتی ہیں، تازہ سبزی، فروٹ اور دودھ لے کر جاتی ہیں، سم مونز کی شاپ پر پہنچاتی ہیں اور ڈاک کی گاڑی بھی روزانہ پوسٹ آفس آتی اور جاتی ہے اور یہ سب بھی اکیلے سم مونز کیلئے کیا جاتا ہے۔
گاؤں میں دنیا کی تمام سہولیات موجود ہیں، ٹاؤن تک ریلوے لائن بچھی ہے، سڑک کے ذریعے ٹاؤن کو شہر سے جوڑا گیا، پوسٹ آفس ، پٹرول پمپ اور گیس سٹیشن قائم کیا گیا، بجلی ، ٹیلی فون ، انٹرنیٹ کیبل، واٹر سپلائی اور سیوریج کی باقاعدہ لائنیں ڈالی گئی ہیں ، یہ ساری سہولیات صرف ایک ڈان سم مونز کیلئے ہیں
سوال یہ پیدا ہوتا ہے ایک اکیلے شخص کیلئے حکومت کو اتنی تگ و دو‘ اتنے اخراجات کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ حکومت سم مونز کو اٹھا کر شہر میں آباد کر دے، بھاری بھرکم اخراجات سے بھی بچے اور ذمہ داری سے بھی بری الذمہ ہو جائے لیکن یہ ہے وہ احساس، یہ ہے وہ ذمہ داری جس کی وجہ سے آج امریکا۔۔۔ امریکا اور ہم تیسرے درجے کا پاکستان ہیں۔ ہم اگر بفرڈ ٹاؤن اور اس کے باشندے سم مونز کو دیکھیں، اس کے لائف سٹائل کو سامنے رکھیں اور اس کے بعد اپنے اپنے محلے، اپنے دیہات، اپنے اپنے گاؤں اور اپنے اپنے شہر کو دیکھیں اور اس کے بعد اپنے اپنے ناظمین، کونسلرز، ایم پی ایز اور ایم این ایز کے رویوں کو دیکھیں تو سر ندامت سے اور آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں۔
ہماری 70 فیصد آبادی دیہات میں رہائش پذیر ہے، دیہات تو رہے ایک طرف شہری آبادی کے 30 فیصد لوگوں کو بھی وہ سہولیات میسر نہیں جو سم مونز کو حاصل ہیں۔ مثلاً ہمارے چند بڑے شہروں کو چھوڑ کر اکثر شہروں میں انٹرنیٹ نہیں‘ سیوریج لائنیں نہیں‘ واٹر سپلائی کی سکیم نہیں‘ فٹ پاتھ نہیں‘ میونسپل کا عملہ نہیں‘ کچرا گھر نہیں اور گیس کی سہولت موجود نہیں۔ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو گلیاں کچی اور بے ڈھنگی ہیں،
بے ترتیب گلیوں میں سیوریج کا کوئی نظام نہیں ، کیچڑ،کچرا اور گرد و غبارسے پورا محلہ کچرا گھر کا منظر پیش کرتا ہے، نالیوں کا گندا پانی گلیوں میں جمع ہوتا ہے، سیوریج لائنوں کا بدبودار پانی گھروں میں داخل ہوتا ہے، بارش میں گلیاں جوہڑ کا منظر پیش کرتی ہیں، سٹریٹ لائیٹس کا کوئی تصور نہیں، اگر غلطی سے کہیں یہ سہولت دستیاب بھی ہے تو بلب ہو گا اورنہ ہی کنکشن۔ فٹ پاتھ کا تصور بھی نہیں، کچرا دانوں کا کلچر بھی نہیں اور اگر کچرا گھر ہو بھی تو آدھے سے زیادہ کوڑا اس کے اردگرد پھیلاہو گا، میونسپل کا عملہ ہفتہ ہفتہ کچرا اٹھانے نہیں آتا، بجلی کے کھمبے ہیں لیکن تاریں نہیں ، تاریں ہوں گی تو گلیوں میں بکھری پڑی ہوں گی، واٹر سپلائی کی باقاعدہ سہولت موجودنہیں ، لائنیں ٹوٹی ہوں گی، گندا پانی لائنوں میں شامل ہوتا ہو گا، بجلی کی سہولت لوڈشیڈنگ کا عذاب بن چکی،
گیس کی قلت امتحان اور آزمائش کا درجہ پا گئی، طبی مرکز نہیں‘ ایمرجنسی کی سہولت موجود نہیں اور یوں زندگی سسک رہی ہے، تڑپ رہی ہے، کیوں؟ کیونکہ ہمارے لیڈروں، عوامی نمائندوں میں احساس ذمہ داری نہیں، انتخابات کے آتے ہی دودھ کی نہریں بہا دیں گے کے نعرے لگاتے ہیں‘ہر چوکھت ہر دروازے پر آتے ہیں، انہیں ٹوٹی گلیاں اور تباہ حال سڑکیں بھی دکھائی دینے لگتی ہیں، عوام کے مسائل، شہریوں کے دکھ اور دیہاتیوں کے المیے چٹکی بجا کر حل کر دینے کے وعدے ہوتے ہیں مگر انتخابات گزرنے کے بعد سالوں عوام کو شکل نہیں دکھاتے۔ خوش قسمتی سے اگر کوئی ترقیاتی فنڈ ہاتھ لگ بھی جائے تو پہلے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا جاتا ہے،
پھر ٹھیکیداروں کی مٹھی گرم کی جاتی ہے اور اس کے بعد کہیں چھوٹا موٹا منصوبہ شروع ہوتا ہے۔ یہی حال انتظامیہ کا ہے، واپڈا، گیس، میونسپل اور ترقیاتی کارپوریشنز اپنے اپنے پیٹ بھرتی ہیں، ڈیوٹی اور فرائض کی ادائیگی شان و شوکت میں توہین محسوس ہوتی ہے، سرکاری ملازمین سارا سارا دن دفتروں، تھڑوں اور کھوکھوں پر بیٹھ کو خوش گپیاں مارتے رہیں گے، چائے کا دور چلتا رہے گا اور شام ہوتے ہی گھروں میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ جائیں گے، عوام تڑپتی ہے تو تڑپتی رہے، عوام مرتی ہے تو مرے ان کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگتی، اس لئے کہ اونٹنی کا دودھ پی کر سونے والے بچوں کا بلکنا کیا جانیں، من و سلویٰ سے شکم سیر کرنے والے غریب کی بھوک کی تڑپ کیا سمجھیں، 16 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں کمبل لپیٹ کر خواب کے مزے لوٹنے والے 50 ڈگری میں فٹ پاتھ پر جھلسنے والوں کی تکالیف کا اندازا کیسے لگائیں اور 24، 24 گھنٹے یخ بستہ کمروں اور گاڑیوں میں لطف اٹھاتے ہیں اور غریب عوام کھیتوں کھلیانوں اور سڑکوں پر رزق تلاش کرتی ہے۔
المیہ یہ کہ آنکھ اقتدار کے جھولے میں کھلتی ہے ، جوانی برطانیہ اور یورپ کے کلبوں اور سوئمنگ پولوں میں بسر ہوتی ہے اور جب گالوں کی سرخی اور بازوؤں کی طاقت اترتی ہے تو وطن یاد آ جاتا ہے‘ قوم کے خیرخواہ ‘ عوام کے رہنما بن کر وارد ہوتے ہیں اور قومی مسائل کے حل کا بیڑا اٹھا لیتے ہیں جبکہ عوام کے مسائل سے آگاہی ہوتی ہے‘ کلچر اور ثقافت کی جانچ پرکھ ہوتی ہے اور نہ ہی شہریوں کے دکھوں اور غموں کا علم ہوتا ہے۔ یہ ہے وہ المیہ جس کی وجہ سے ہم پسماندہ اور دنیا ترقی یافتہ ہے کہ دنیا میں انسانیت کی قدریں باقی ہیں جبکہ ہمارے ہاں روزانہ انسانوں کی تذلیل ہوتی ہے اوروزانہ درجنوں سروں کی فصل کاٹی جاتی ہے اور یہ ہے وہ فرق جس کی وجہ سے سم مونز اکیلا رہ کر بھی خوش ہے اور ہم 18 کروڑ کے ملک میں رہ کر بھی بے چین ‘ اداس اور غمگین ہیں۔






























