بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

پیرومرشد

datetime 22  جنوری‬‮  2019 |

ایک شخص جسے لوگ ٹڈا کہتے تھے‘ اپنی بیوی کو لیکر اپنے مقامی گاﺅں سے نکل کر دوسرے گاﺅں میں سیٹل ہوگیا۔ فیصلہ کیا اس نئے گاﺅں میں نئی شناخت پیدا کروں گا اب لوگ مجھے ٹڈا نہیں پیر صاحب کہے گے۔ بیگم نے پوچھا وہ کیسے ؟ جواب دیا اس گاﺅں کے چوہدری کی بہن کے پاس ایک قیمتی ہار ہے بس تم وہ ہار کسی طرح چرا کر لے آﺅ‘ پھر دیکھتی جاﺅ‘

بیگم نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ہار کمال مہارت سے چرایا اور لاکر ٹڈے کو دے دیا‘دوسری جانب گاﺅں میں ہنگامہ ہوگیا ہار کی چوری کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی‘ٹڈے نے اپنی بیوی کو کہا جاﺅ جاکر چوہدری کی بہن کو بتا آﺅ کہ میرا خاوند بہت بڑا بزرگ ہے ‘لوگوں کی گمشدہ چیزیں برآمد کرتا ہے۔اس بات پر چوہدری اپنے گھرانے اور گاﺅں والوں کو ساتھ لیکر ٹڈے کے ہاں حاضر ہوگیا اور پیر صاحب سے کہا جی بتائیے ہمارا ہار کہاں ہوسکتا ہے۔ ٹڈے نے راتوں رات ہار چوہدری کے گھر کی چھت پر پھینک دیا تھا‘ بتایا آپ کا ہار کسی نوکرانی نے چرایا تھا جس نے بعد میں خوفزدہ ہوکر آپ کی چھت پر پھینک دیا‘جاکر اٹھا لو وہاں سے۔ ہار ملنے کے بعد اس ابتدائی کرامت پر سارا گاﺅں پیر صاحب کا مرید ہوگیامگر چوہدری جو اندھوں میں کانا راجہ تھا اسے پیر صاحب کھٹکنے لگا‘ گاﺅں والوں کو سمجھایا کہ یہ شخص مجھے فراڈ معلوم ہوتا ہے مگر گاوں والے انکار کرتے رہے‘ چوہدری نے پیر صاحب کو ایک اور آزمائش میں ڈالا مگر خوش قسمتی سے وہ اس آزمائش میں بھی کامیاب ہوگیا‘لوگوں نے چوہدری کو سمجھایا کہ اب بس کرو بزرگوں پر شک نہیں کیا جاتا‘ چوہدری پریشان ہوگیا اور عہد کرلیا جو بھی ہو میں اس پیر کا بھانڈا پھوڑ کے ہی چھوڑں گا‘ آخر ایک دن چوہدری نے اعلان کیا‘

کل کھلے میدان تمام گاوں کے لوگ اکٹھے ہونگے اگر پیر صاحب نے بتا دیا کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے تو میں سب کے سامنے اس کے ہاتھ پر بیت ہوجاونگا‘سب لوگ پیر سمیت میدان میں پہنچ گئے چوہدری گھر سے نکلا تو سوچتا رہا ہاتھ میں کیا پکڑا جائے؟ اچانک اس کی نظر ایک ٹڈے پر پڑ گئی اس نے پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو وہ پھدک گیا ، پھر ہاتھ بڑھایا پھر پھدک گیا ، تیسری دفعہ میں پکڑا گیا۔

چوہدری مجمعے میں پہنچا اور سوال کیابتاﺅ‘ میری مٹی میں بند ہے کیا‘اس سے پہلے کہ پیر صاحب جواب دیتا کہ” ناز پان مسالہ“ایک گہری سوچ میں پڑ گیا‘ اسے اپنی شامت نظر آئی‘ دو بار تو جیسے تیسے بچ گیا تھا مگر اس بار بچنا ناممکن تھا لہٰذا مایوسی میں آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور اپنے آپ کو کوستے ہوئے کہا‘ہائے رے ٹڈے پہلی چھلانگ میں تو بچ گیا تھا‘ دوسری چھلانگ میں بھی بچ گیا مگر اب تیسری دفعہ تم گرفت میں آگئے۔یہ سنتے ہی چوہدری ٹڈا المعروف پیر صاحب کے پاﺅں سے لپٹ گیا دھاڑے مار مار کر معافیاں مانگیں‘ کہا کوئی مانے نہ مانے میں مانتا ہوں کہ تم پیر ہو مرشد ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…