ایک شخص امام ابوحنیفہؒ کے پاس آیا اور پوچھا کہ آپ کے والد کا انتقال ہو چکا ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا ’’ہاں‘‘۔ پھر فرمایا’’آپ کی والدہ زندہ ہیں؟‘‘ فرمایا ، ہاں زندہ ہیں۔ وہ کہنے لگا، میں نے سنا ہے کہ آپ کی والدہ بڑی حسینہ و جمیلہ ہیں، اس لئے میں ان سے نکاح کرنے آیا ہوں۔
آپ ان کا نکاح میرے ساتھ کر دیجئے۔ فرمایا کہ عاقل و بالغ ہیں، اپنے نکاح کا اختیار ہے، میں جبر نہیں کر سکتا۔ البتہ ان سے پوچھ سکتا ہوں۔ آپ پوچھنے جا رہے تھے کہ اتفاق سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ تڑپ تڑپ کر جان دے رہا تھا، فرمایا ’’ابوحنیفہؒ کے صبر نے اس کی جان لے لی‘‘۔ حضرت مولانا اسماعیل شہیدؒ کے امتحان کی غرض سے ایک شخص آیا۔ اس نے سنا تھا کہ آپ بڑے جوشلے اور تیز طبع ہیں۔ دہلی کی جامع مسجد میں مولانا تشریف رکھتے تھے۔ وہ آیا اور مجمع میں باآواز بلند پوچھا ’’میں نے سنا ہے کہ آپ حرامی ہیں؟‘‘ مولانا نے فرمایا تم سے کسی نے غلط کہا ہے میری ماں کے نکاح کے گواہ ابھی زندہ ہیں۔ اگر یقین نہ ہو تو تصدیق کرا دوں‘‘۔ وہ شخص قدموں میں گر پڑا اور کہنے لگا ’’میں تو امتحان کرتا تھا کہ آپ کی تیزی تکبر سے تو نہیں ہے لیکن معلوم ہوا کہ سارا غصہ اور تکبر اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے‘‘۔

























