اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک حج پر گیا تو ایک بار طواف کرتے ہوئے اس کی نظر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پوتے سالم (سالم بن عبداللہ بن عمر بن الخطاب) پر پڑی جو انتہائی خستہ حال لباس جس کی قیمت تین درہم بھی نا رہی ہوگی پہنے اور اپنی پھٹی پرانی جوتی کو بغل میں دبائے طواف کر رہے تھے۔ خلیفہ ان کے قریب ہوئے اور انہیں آہستہ سے کہا: اے سالم: میری لائق کوئی ضرورت ہو تو بتاؤ۔
سالم نے انہیں انتہائی حیرت اور غضبناک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا: تجھے شرم نہیں آتی کہ ہم اللہ کے گھر میں کھڑے ہیں اور تو مجھ سے چاہتا ہے کہ میں اپنی ضرورتوں کو مانگنے کیلئے اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے ہاتھ پھیلاؤں؟ خلیفہ کے چہرے پر انتہائی خجالت اور شرمندگی نمودار ہوئی، تاہم اس نے سالم کو جانے دیا اور اپنا طواف مکمل کرنے لگ گیا۔ خلیفہ نے سالم پر اپنی نظر رکھی، اور اس نے جیسے ہی دیکھا کہ یہ باہر جا رہے ہیں ان کے پیچھ ہی باہر نکل آیا اور پھر پوچھا: سالم، آپ بیت اللہ میں مجھے اپنی ضرورت بتانے پر آمادہ نہیں ہوئے، چلو اب تو ہم باہر کھڑے ہیں، اب بتاؤ کہ اگر میں تمہاری کوئی ضرورت پوری کر سکتا ہوں تو؟ سالم نے نہایت ہی تحمل سے بات سن کر خلیفہ سے کہا: اچھا مجھے بتائیے کہ میں آپ کو اپنی دنیاوی ضرورت بتاؤں یا اخروی؟ خلیفہ نے کہا: سالم – بس مجھے فقط دنیاوی ضروریات ہی بتا دیجییئے، اور اگر کوئی اخروی ہے تو وہ تمہارا اور اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے۔ سالم نے کہا: اے سلیمان، اللہ کی قسم، میں نے آج تک اپنی کوئی بھی دنیاوی ضرورت اس کے سوا کسی سے نہیں مانگی جو اس دنیا کا مالک ہے۔ میں کیسے کسی ایسے سے اپنی ضرورتیں مانگوں جو اس دنیا کا مالک نہیں!!

























