بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

غلام بادشاہ

datetime 21  جنوری‬‮  2019 |

گاؤں‘ پورا گاؤں خشک سالی کا شکار تھا‘ زمین زخم کا کھرنڈ بن گئی‘ ہریالی رخصت ہوئی تو سبز رنگ بھی ساتھ ہی لے گئی‘ گاؤں کے لوگوں کو سبز رنگ دیکھے مدتیں ہو گئیں‘ آسمان پگھلا ہوا تانبا بن گیا اور یہ تانبا رات کے اندھیرے میں بھی سلگتا رہتا تھا‘ کتے‘ بلیاں اور لومڑ ڈھور ڈنگروں کو کھانے لگے‘ انسان کتے‘ بلیوں اور لومڑوں کو کھانے لگا اور ڈھور ڈنگر انسانی غلاظت پر منہ مارنے لگے‘ گاؤں سے اناج یوں ختم ہوا

جیسے کہرا سورج کو نگل جاتا ہے یا سورج کی تیز شعاعیں رات کی ٹھٹھری سہمی شبنم کو پی جاتی ہیں یا پھر باریک ریت ہوا کے رخ پر دوڑتے دوڑتے افق کے پار گم ہو جاتی ہے‘ پیچھے رہ گیا پانی تو پانی انسان کے حلق تک سے غائب ہو گیا‘ گاؤں کے مثانے تک خشک ہو گئے اور لوگوں کو بعض اوقات محسوس ہونے لگتا جیسے پانی تک میں پانی نہیں رہا‘ وہ لوگ کیچڑ کو کپڑے میں لپیٹ کر چوستے تھے اور انہیں غلیظ حرکت کے دوران بدبو اور کڑواہٹ کا احساس تک نہیں ہوتا تھا۔یہ ہندوستان کا گاؤں تھا اور دور تھا اکبر اعظم کا‘ راجستھان میں قحط پڑا اور یہ قحط آہستہ آہستہ اس گاؤں میں بھی پہنچ گیا‘ خشک سالی‘ قحط اور غربت جب حد سے گزر گئی اور نوبت انسان کے انسان کو کھانے تک آ گئی تو گاؤں کے مکھیا نے بادشاہ کے دروازے پر دستک دینے کا فیصلہ کیا‘ وہ گاؤں سے نکلا اور دلی پہنچ گیا‘ وہاں جا کر معلوم ہوا بادشاہ دلی سے فتح پور سیکری منتقل ہو چکا ہے‘ مکھیا وہاں پہنچ گیا‘ بادشاہ ہفتے کے ایک دن عام لوگوں سے ملتا تھا‘ اکبر اعظم محل سے نکلتا تھا‘ دیوان عام میں بیٹھ جاتا تھا اور شام تک سلطنت کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے عام لوگوں کی درخواستیں سنتا تھا‘ گاؤں کا مکھیا فتح پور سیکری پہنچا اور دیوان عام کھلنے کا انتظار کرنے لگا‘

ہفتہ گزر گیا‘ دوسرا ہفتہ بھی گزر گیا اور تیسرا ہفتہ چڑھ گیالیکن دیوان عام نہ کھلا‘ مکھیا کی پریشانی اذیت میں بدل گئی کیونکہ وہ جانتا تھا اس کے گاؤں کے سینکڑوں لوگ موت اورحیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں‘ یہ لوگ دلی کے راستے پر نظریں جما کر بیٹھے ہیں مگر بادشاہ دیوان عام بنا کر اس کے دروازے کھولنا بھول گیا ہے‘ وہ روز دیوان عام جاتا‘ اس کے دروازے پر کھڑے سپاہیوں کو دیکھتا‘ مایوس ہوتا

اور خیراتی سرائے میں واپس آ جاتا‘ خیراتی سرائے میں اسے رہنے کی جگہ بھی مل جاتی‘ کھانا بھی‘ پانی بھی اور پوجنے کیلئے آگ بھی مگر گاؤں کے لوگوں کی تکلیف اسے آرام سے نہیں بیٹھنے دیتی تھی‘ وہ آگ پر گرے سانپ کی طرح لوٹتا تھا اور زخمی اونٹ کی طرح بلبلاتا تھا لیکن بادشاہ بادشاہ ہوتے ہیں‘ یہ دوسروں کی تکلیف سے آگاہ نہیں ہوتے‘ وہ ایک دن تنگ آ گیا اور اس نے تخت اور تختے کا فیصلہ کر لیا‘

وہ شاہی محل گیا‘ دہلیز پر بیٹھا اور اس نے اٹھنے سے انکار کر دیا‘ شاہی محافظوں نے اسے نیزے اور برچھیاں چبھوئیں مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا‘ یہاں تک کہ محافظوں کا دل پسیج گیا‘ وہ اسے سلیم درویش کی درگاہ پر لے گئے‘ بادشاہ کا زیادہ تر وقت سلیم درویش کی درگاہ پر گزرتاتھا‘ یہ فتح پور سیکری کے درویش تھے‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا سے مغل اعظم کو ولی عہد کی نعمت سے نوازا تھا‘ بادشاہ کے گھر شہزادے سلیم نے جنم لیا

اور بادشاہ اس مہربانی سے اتنا خوش ہوا کہ اس نے اپنا پایہ تخت دلی سے فتح پور سیکری منتقل کر دیا‘ سلیم درویش کی درگاہ کے سائے میں آگرہ کے نام سے نیا شاہر آباد کیا‘ وہ شہزادے کو لے کر روزانہ درویش کی محفل میں شریک ہو جاتا اور سلیم درویش جب تک بادشاہ کو اجازت نہ دیتا وہ ان کی محفل میں بیٹھا رہتا‘ محافظوں نے مکھیا پر ترس کھا کر اسے سلیم درویش کی محفل میں پہنچا دیا‘ وہ وہاں پہنچا تو اس نے وہاں عجیب منظر دیکھا‘

اس نے دیکھا درویش تخت پر فروکش ہے‘ بادشاہ شہزادے کے ساتھ اس کے پاؤں میں بیٹھا ہے‘ درویش کا ایک پاؤں بادشاہ کے ہاتھوں میں ہے اور بادشاہ اسے مخملی موزے چڑھا رہا ہے‘ مکھیا نے یہ منظر دیکھا تو وہ الٹے قدموں واپس لوٹ گیا‘ اس نے فتح پور سیکری کے باہر کھڑے ہو کر اوم کا جاپ کیا اور اپنے گاؤں کی طرف چل پڑا۔وہ دو مہینوں کے سفر کے بعد گاؤں لوٹا تو لوگ اسے خالی ہاتھ دیکھ کر پریشان ہو گئے‘

لوگوں نے ناکامی کی وجہ پوچھی‘ اس نے لوگوں کو جمع کیا اور دکھی لہجے میں بولا ’’ ہم اپنے بادشاہ کو بھگوان کا اوتار سمجھتے ہیں‘ ہمارا خیال ہے ہمارا بادشاہ چاہے تو ہم پر بارش بھی برس سکتی ہے‘ ہماری کھیتیاں بھی ہری ہو سکتی ہیں‘ ہمارے جانور بھی پھل پھول سکتے ہیں‘ ہمارے مال و دولت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے اور ہم سے مصیبتیں بھی کم ہو سکتی ہیں‘ میں اس اوتار کی تلاش میں پہلے دلی گیا‘

وہاں سے فتح پور سیکری پہنچا اور اوتار کی زیارت کیلئے تین ہفتے آگرہ میں انتظار کرتا رہا‘ مجھے اس طویل انتظار‘ لمبے سفر اور خواہشوں کی وسیع تھکاوٹ کے بعد اوتار کی زیارت نصیب ہوئی تو میں نے اسے ایک کمزور انسان کے قدموں میں بیٹھے دیکھا‘ مجھے اس وقت احساس ہوا جو شخص اپنے ولی عہد کیلئے دوسرے انسان کا محتاج ہے اور جس شخص کی نظر میں اپنے پیر کے موزے ہمارے جیسے

سینکڑوں ہزاروں مجبوروں کے قحط سے زیادہ بڑے ہیں اور جو جنتا کی خدمت کا زیادہ تر حصہ اپنے پیر کی خدمت میں خرچ کر دیتا ہے وہ مجبور‘ لاچار اور غریب شخص ہمیں کیا دے گا‘ وہ ہمارے دکھ کیسے ختم کرے گا چنانچہ میں آگرہ سے خالی ہاتھ واپس آ گیا‘‘ لوگ حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگے وہ بولا ’’ ہمارے بادشاہ ہم سے زیادہ لاچار ہیں‘ ہم لوگ بھوک اور قحط کے باوجود کسی انسان کے قدموں میں نہیں جھکتے

مگر ہمارے بادشاہ صرف اقتدار کیلئے‘ صرف ولی عہد کیلئے انسانوں کے قدموں میں بیٹھ جاتے ہیں‘ یہ انہیں سجدے تک کر جاتے ہیں‘ یہ لاچار لوگ ہمیں کیا دیں گے‘ چلو آؤ اس بھگوان سے دعا کریں جو ہمارے بادشاہ کا بھی بھگوان ہے اور بادشاہ کے اس پیر کا خدا بھی جس کے پاؤں میں نے بادشاہ کی گود میں دیکھے‘‘۔یہ تاریخ کا گم نام واقعہ تھا جو میں نے برسوں پہلے مغل ہسٹری کی کسی کتاب میں پڑھا ‘

یہ واقعہ دماغ کی کسی دیوار کے ساتھ چپک گیا اور کل صدر آصف علی زرداری سے متعلق ایک چھوٹی سی خبر کے ساتھ دوبارہ زندہ ہوگیا‘ یہ خبر خبر کم اور تہلکہ زیادہ تھی‘ رپورٹر کے مطابق صدر آصف علی زرداری کے پیر صاحب نے انہیں 20 دسمبر سے 10 جنوری تک پہاڑوں سے دور اور سمندر کے قریب رہنے کی ہدایت کی اور صدر صاحب اس ہدایت پر 19 دسمبر کو اسلام آباد سے کراچی شفٹ ہو گئے‘ یہ 23 دنوں سے کراچی میں ہیں

اور یہ اس وقت تک سمندر کے قریب رہیں گے جب تک ان کے اقتدار سے پہاڑوں کا سایہنہیں ٹل جاتا‘ یہ خبر محض خبر رہتی اگر میں نے مختلف لوگوں سے ان کے پیر صاحب کے بارے میں سنا نہ ہوتا‘ مجھے پاکستان مسلم لیگ ن‘ اے این پی اور جے یو آئی کے مختلف لوگ پیر صاحب کے بارے میں بتا چکے ہیں‘ یہ پیر صاحب اتحادیوں کی میٹنگ‘ غیر ملکی سربراہوں کے ساتھ صدر صاحب کی ملاقات

اور اہم فیصلوں سے پہلے صدارتی ہال اور صدارتی دفتر میں تشریف لاتے ہیں‘ وہاں پڑھ کر کچھ پھونکتے ہیں اور اس کے بعد صدر صاحب وہاں تشریف لاتے ہیں اور یوں میٹنگ کی کارروائی شروع ہوتی ہے‘ میں روحانی بزرگوں کا دل سے احترام بھی کرتا ہوں اور ان سے ملاقاتوں کا موقع بھی ڈھونڈتا رہتا ہوں‘ میں یہ تسلیم کرتا ہوں نگاہ مرد مومن سے زنجیریں بھی کٹ جاتی ہیں اور دلوں کا حال بھی بدل جاتا ہے

لیکن انسان اس کے باوجود انسان ہی رہتا ہے‘ یہ خدا نہیں بنتا‘ یہ اللہ کی مرضی کے خلاف کسی کو زندگی‘ عزت‘ دولت اور اقتدار نہیں بخش سکتا‘ میں نے ایک بار ایک درویش سے پوچھا ’’ کیا آپ کسی کو خوشحال بنا سکتے ہیں‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’ ہم بالکل نہیں بنا سکتے لیکن ہم اسے خوشحالی کا گُر ضرور سیکھاسکتے ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’ اور کیا آپ کسی کو تخت پر بٹھا سکتے ہیں‘‘ انہوں نے جواب دیا

’’ ہم اسے صرف تخت کی طرف جانے کا راستہ دکھا سکتے ہیں‘ ہم اسے تخت پر نہیں بٹھا سکتے‘‘ میں نے پوچھا ’’ آپ کون لوگ ہیں‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’ ہم اللہ کے ایسے بندے ہیں جو بندگی میں اللہ کو اتنا راضی کر لیتے ہیں کہ یہ ہمیں بندوں کی حاجت سے رہائی دے دیتا ہے‘ یہ ہمیں دولت‘ شہرت اور اقتدار کی ہوس اور زندگی‘ رتبے اور مال کے خوف سے آزاد کر دیتا ہے اور یہ کل روحانیت ہے‘‘

مگر ہمارے حکمران ان پیروں کو خدا سمجھ بیٹھتے ہیں‘ یہ انہیں اپنے اقتدار کا محافظ اور اقتدار کی طرف بڑھتے خطروں کی ڈھال سمجھ بیٹھے ہیں‘ ہم کس قدر بدنصیب لوگ ہیں‘ ہم سورۃ اخلاص کے خدا کو چھوڑ کر ان لوگوں کو خدا بنا بیٹھے ہیں جو اللہ کی رضا کے بغیر ایک لقمہ نہیں نگل سکتے اور اگر نگل لیں تو اسے ہضم نہیں کر سکتے‘ ہم کس قدر بدنصیب لوگ ہیں ہم مکھی کا پر نہیں بنا سکتے

لیکن مجبور اور لاچار انسانوں کو اپنا خدا بنا لیتے ہیں‘ ہم بادشاہ ہو کر بھی غلامی سے آزاد نہیں ہو تے‘ ہم پہاڑوں کے سایوں سے گھبرا کر سمندروں کا قرب لیتے ہیں‘ ہم اللہ کا کرم چھوڑ کر مسکین‘ لاچار اور کمزور لوگوں کے دامن میں پناہ گزین ہو جاتے ہیں‘ ہم کیسے لوگ ہیں‘ اللہ نے ہمیں بادشاہ بنایا لیکن ہم نے یہ بادشاہت انسانوں کی غلامی میں دے دی‘ ہم بادشاہ بن کر بھی غلام رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…