ایک تاجر کا انتقال ہو گیا اس نے بہت سی دولت اپنے پیچھے چھوڑی اس کا ایک ہی لڑکا تھا جو اس کا وارث تھا مگر وہ مدت سے مفقودالخبر تھا اور اس کا کوئی پتہ نہ تھا کہ وہ کہاں ہے اور اسی وجہ سے کسی کی شکل و صورت بھی یاد نہ رہی تھی۔کچھ مدت کے بعد تین لڑکوں نے دعوٰی کیا کہ وہی مرحوم تاجر کے بیٹے ہیں یعنی ان میں سے ہر ایک کا یہ دعوٰی تھا کہ تاجر کا لڑکا میں ہوں۔
یہ تینوں قاضی کے پاس آئے اور اپنا دعوٰی پیش کیا قاضی نے مرحوم تاجر کی ایک تصویر منگوائی اورکہا جو لڑکا اس تصویر پر بندوق سے ٹھیک نشانہ لگائے گا وہی وارث ہوگا،تین میں سے دو لڑکے تو نشانہ لگانے کو تیار ہو گئے مگر تیسرا پریشان ہو گیا اور چہرے پر پریشانی کے آثار ظاہر ہو گئے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور بولا کہ نا ممکن ہے کہ میں اپنے باپ کی تصویر کو نشانہ بناؤں مجھے پروا نہیں کچھ ملے یا نہ ملے مگر میں ایسا نہیں کروں گا۔قاضی نے یہ سن کر فیصلہ دے دیا کہ تاجر کا حقیقی بیٹا یہی ہے اور یہی میراث کا حقدار ہے۔۔۔مسلمان ہونے کے مدعی تو سب ہیں مگر جو لوگ اسلام کو اپنا تحتہ مشق نہیں بناتے اور اس پر الحاد و زندقہ کے تیر نہیں برساتے اصل میں وہی سچے مسلمان اور جنت کے جائز وارث ہیں۔

























