جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

’’مائی منکی جنرل‘‘

datetime 19  اگست‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کی غلام گردشوں میں ہونے والی سازشوں اور تانوں بانوں اور حکومتوں کے تختے الٹے جانے کے چشم دید گواہ دانشور، تجزیہ نگار اور سابق بیوروکریٹ روئیداد خان کسی تعارف کے محتاج نہیں، آپ نے پاکستان کی تاریخ کے اہم دور میں سیاستدانوں، جرنیلوں اور اہم بیوروکریٹس کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی کو انتہائی قریب سے دیکھا ہے۔

نوائے وقت کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں روئیداد خان بتاتے ہیں کہ ایک بار حاکم علی زرداری نے اپنے بیٹے کا تعارف کرواتے ہوئے مجھے کہا کہ یہ میرا بیٹا آصف علی ہے جو ٹکٹ بیچتا ہے، انہوں نے بتایا کہ محترمہ بینظیر بھٹو اپنے شوہر آصف علی زرداری سے بہت محبت کرتی تھیں، آصف علی زرداری لندن میں بینظیر کو ہر روز پھول اور چاکلیٹ بھیجا کرتے تھے، ایک بار وزرا کی لسٹ سے آصف علی زرداری کو نکالنے کا کہا گیا تو بینظیر بھـٹو کی آواز اونچی ہو گئی اوروہ رونے لگیں۔ انہوں نے تقریباََ چیختے ہوئے کہا کہ آپ آصف زرداری کو لیں ورنہ سب ختم۔ روئیداد خان بتاتے ہیں کہ چیئرمین سی بی آر طلعت کوآصف زرداری نے مغلطات سنائے تو بینظیر نے شوہر کے منہ پر ہاتھ رکھ دیاتھا۔بھٹو کی پھانسی اور اس دوران پیش آنے والے واقعات سے متعلق سابق بیوروکریٹ کا کہنا تھا کہ جنرل ضیاءالحق پیپلز پارٹی کو ملک دشمن قرار دے کر بین کرانا چاہتے تھے اور اس مقصد کیلئے انہوں نے مجھے کہا کہ پیپلزپارٹی کے خلاف مواد ڈھونڈو، میں اس وقت سیکرٹری وزارت داخلہ تھا، ہم نے انکار کر دیا، وہ سمجھتے تھے کہ وزارت داخلہ کے پاس پیپلز پارٹی کے خلاف بہت مواد ہے مگر چھپایا ہوا ہے تو انہوں نے کوئٹہ سے ایک جنرل کو بلواکر وزارت خارجہ کے دفتر بیٹھا دیا کہ پی پی پی کے خلاف ریکارڈ اکٹھا کرو۔

مگر انہیں بھی کچھ نہ ملا۔بھٹو کیس میں جنرل ضیاالحق نے مجھے سائیڈ لائن کیاہوا تھا۔ وزارت داخلہ کے ذریعے ہی مرسی پٹیشن کی پروسس ہوسکتی تھی تو میں نے بڑی مضبوط سمری تیار کی کہ ذوالفقار علی بھٹو پر کوئی کیس نہیں بن سکتا۔ جنرل ضیاالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی ختم کرنے کا آئینی اختیار استعمال نہ کیا۔ روئیداد خان کا کہنا تھا کہ جنرل ضیاالحق بڑی خوبصورتی

سے جھوٹ بول جاتے تھے۔بھٹو کو پھانسی کے تختے پر لے جانے والا ان کا فیورٹ مسعود محمود تھا جو جنرل ضیاالحق کے کہنے پر وعدہ معاف گواہ بنا۔ گواہی دینے کے بعد مسعود محمود امریکہ چلا گیا۔ مجھے ملا تو کہنے لگا جنرل ضیاالحق سے کہنا مجھ سے جو وعدے کئے تھے وہ پورے نہیں کئے گئے۔ میں نے جنرل ضیاالحق کو بتایا تو جنرل ضیاالحق نے کہا ”رات گئی بات گئی“۔

انہوں نے بتایا کہ ایک بار ذوالفقار علی بھٹو نے ان سے مشرقی پاکستان میں لا اینڈ آرڈر سچویشن پیدا کرنے کا کہا، ان کا کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کے ذمہ دار جنرل یحییٰ، ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن تھے۔ پاکستان میں 1970ءکے الیکشن کے سوا کوئی الیکشن فیئر نہیں ہوئے۔ بھٹو نے مجھے کہا کہ جنرل یحییٰ نے شیخ مجیب الرحمن کے دباؤ میں آکر میری

اجازت کے بغیر پارلیمنٹ کے اجلاس کی تاریخ مقرر کردی ہے۔ آپ ڈھاکہ میں لاءاینڈ آرڈر کی سچویشن پیداکر دو، کچھ لاشیں گریں گی، ڈیٹ ملتوی کرنے کی یہ بہت اچھی سچویشن ہوگی۔ اس کے بعد میری بھٹو سے ائرپورٹ پر ملاقات ہوئی تو بھٹو نے کہا کتنے مارے ہیں؟ میں نے کہا مجھے تو پتہ نہیں۔روئیداد خان کا کہنا تھا کہ بھٹو کو اپنی زبان پرکنٹرول نہیں تھا۔ذوالفقار علی بھٹو

نے ایک مرتبہ جنرل ضیاالحق کا تعارف فارن سفیر سے مائی منکی جنرل کہہ کر کروایا۔ انہوں نے کہا کہ بینظیربھٹو نے ایک بار انہیں ملاقات کیلئے کلفٹن میں بلوایا۔اس وقت میں سیکرٹری وزارت داخلہ کے عہدے سے ریٹائر ہو چکا تھا،ان کی خواہش پر میں نے ان کے صدر اسحاق خان کے ساتھ تعلقات ہموار کروائے۔ بینظیر نے مجھ سے کہا تھا کہ صدر غلام اسحاق خان میرے نامزد

صدر ہوں گے غلام اسحاق کو بتا دیں مگر بعد میں مکر گئیں۔صدر غلام اسحاق خان اور میاں نواز شریف کے درمیان جنرل فرخ کو آرمی چیف لگانے پر بھی اختلاف ہوا۔ میاں نواز شریف نے کہا جنرل فرخ کو آرمی چیف لگائیں گے تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔ میں نے چودھری نثار کے کہنے پر معاملے کو سنبھالااور جنرل فرخ کی بجائے جنرل وحید کاکڑ کا انتخاب کیا گیا۔ اس کے بعد

بھی میاں نواز شریف کے معاملات ٹھیک نہ ہوئے اور قوم سے خطاب میں کہہ دیا کہ میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا۔ میں اس وقت جنرل وحید کاکڑ کے گھر پر موجود تھا۔ میں نے کہا وزیراعظم اور صدر توایک دوسرے کے گریبان تک پہنچ گئے ہیں۔ جنرل وحید کاکڑ نے کہا میں مارشل لاءنہیں لگاؤں گا۔ آپ صدر سے جاکر ملو اور کہو کہ وہ جو بھی آئینی قدم اٹھائیں گے، فوج ان کو

سپورٹ کرے گی مگر کور کمانڈر کی میٹنگ میں کہا گیا صدر غلام اسحاق سے استعفیٰ لیا جائے اور جنرل وحید کاکڑ بھی بدل گئے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…