ہفتہ‬‮ ، 15 جون‬‮ 2024 

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کی شان کےواقعات

datetime 1  فروری‬‮  2017
ماں کی شان کےواقعات
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نے ماں کی شان کےواقعات بیان کرتے ہوئےایک ایمان افروز واقعہ سنایاکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ترجمہ ’’اور ہم نے وحی کی موسیٰ علیہ السلام کی ماں کہ تم اپنے بچے کو دودھ پلاؤ اور اگر تمہیں اس بارے میں ڈر لگے کہ فرعون کے فوجی اس کو قتل نہ کر دیں تو تم اسے پانی میں ڈال دینا اور آگے فرمایا اس کو جو پکڑے گا وہ میرا بھی دشمن ہو گا اور اس کا بھی دشمن ہو گا‘

و رساتھ تسلی بھی دیتے ہیں کہ ڈرنا بھی نہیں اور غمزدہ بھی نہیں ہونا ہم اسے تیرے پاس لوٹائیں گے اور ہمیں تو اسے رسولوں میں سے بنانا ہے (القصص)‘‘۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں ایک عورت تھی‘ وہ ذہن میں سوچ سکتی تھی کہ اے اللہ! اگر آپ نے اس کو رسولوں میں سے بنایا ہے تو فرعون کا کوئی فوجی ادھر آ ہی نہ سکے یا اے اللہ! میں اسے کسی غار میں رکھ آتی ہوں اور ادھر جا ہی نہ سکے یا میں اسے گھر کی چھت پر رکھ دیتی ہوں تاکہ بچہ محفوظ رہ سکے۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بچے کو پانی میں ڈالنا‘ عقل کہتی ہے کہ بچہ پانی میں ڈوب جئے گا۔ اچھا اس کو صندوق میں ڈالتی ہوں۔

صندوق میں ڈالے گی تو اس کے اندر پانی بھر جائے گا‘ اگر سارے سوراخ بند کریں تو ہوا کے اندر نہ جانے کی وجہ سے آکسیجن نہیں مل سکے گی‘ جس کی وجہ بچہ مر جائے گا۔ عقل یہ کہتی ہے کہ یا تو یہ پانی کی وجہ سے مرگا یا ہوا نہ ہونے کی وجہ سے مرے گا۔ تیرا بچہ باقی نہیں بچے گا۔ لیکن اس عورت نے اللہ تعالیٰ کے وعدے پر بھروسہ کیا اور اپنے جگرگوشہ کو دریا کے اندر ڈال دیا اور واپس آ گئی۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ فرعون اپنی بیوی کے ساتھ دریا کے کنارے ٹہل رہا تھا۔ چار سو غلام اس کے آگے پیچھے اور ارد گرد تھے۔ انہوں نے جب صندوق کو دیکھا تو اٹھا لیا اور فرعون کے سامنے پیش کر دیا۔ جب صندوق کھولا گیا تو اس میں بچے کو پایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

’’والقیت علیک محبتہ منی‘‘ اے پیارے موسیٰ علیہ السلام ہم نے آپ کے چہرے پر محبت کی تجلی ڈال دی تھی۔ گویا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرہ اقدس کو زیبائی عطا کر کے ایسا دلکشن بنا دیا تھا کہ جو بھی دیکھتا وہ دل دے بیٹھتا۔ چنانچہ جیسے ہی فرعون کی بیوی نے دیکھا تو کہنے لگی ’’لاتقتلوہ‘‘ تمہیں اسے قتل نہیں کرنا چاہئے ’’عسیٰ ان ینفعنا او نتخصذہ ولدا‘‘ یا یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں گے۔

بیوی کی بات سن کر فرعون نے سوچا کہ جب ہم اسے بیٹے کی طرف پالیں تو پھر یہ تو ہماری حکومت ہم سے نہیں چھینے لگا۔ کیونکہ ہمارا ممنون احسان ہو گا۔ اس نے کہا ٹھیک ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔ اس کی عقل نے اسے دھوکہ دے دیا ہزاروں بچوں کو قتل کرنے والا کتنے آرام سے دھوکہ کھا رہاہے۔

کتابوں میں لکھا ہے کہ فرعون کی بیوی نے جب یہ سنا تو وہ خوش ہو گئی اور کہنے لگی۔ ’’قرۃ عین لی ولک‘‘ کہ یہ میری او رتیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ فرعون نے اس کے جواب میں کہا ’’قرۃ عین لک‘‘ یہ تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ ’’لاحاجتہ لی‘‘ لیکن مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ روح المعانی میں لکھا ہے کہ جب فرعون کی بیوی نے ’’قرۃ عین لی ولک‘‘ کہا تھا اس وقت اگر فرعون بدبخت صرف ہاں کر دیتا تو اس ہاں کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس کو بھی ایمان لانے کی توفیق نصیب فرما دیتا۔

چونکہ فرعون کی بیوی (حضرت آسیہؓ) خوش ہوئی تھیں اس لئے فرعون نے اس خوشی کی وجہ سے وہاں پر موجود چار سو غلاموں کو آزاد کر دیا۔ تفسیر میں ایک عجیب نکتہ لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ابھی بچپن میں تھے مگر جب وہاں پہنچے تو چار سو غلاموں کی آزادی کا سبب بن گئے۔ اس طرح اللہ والے جس آبادی میں چلے جاتے ہیں اس آبادی کیلئے نفس اور شیطان کی غلامی سے آزادی پانے کا سبب بن جایا کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو محل میں لے جایا گیا تو انہیں دودھ پلانے کے بارے میں فکر ہونے لگی۔ عورتوں نے انہیں دودھ پلانا چاہا مگر انہوں نے دودھ نہ پیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

’’وہ حرمنا علیہ المراضع من قبل‘‘ اور ہم نے ان پر دوسری عورتوں کا دودھ حرام فرما دیا تھا۔ فرعون بڑا پریشان ہوا کہ بچہ دودھ نہیں پیتا‘ اس نے کہا کچھ اور عورتوں کو بلاؤ چنانچہ کئی عورتوں کو بلایا گیا لیکن بچے نے کسی کا بھی دودھ نہ پیا‘ فرعون اور زیادہ پریشان ہوا‘ اسی حال میں رات گزر گئی۔ ادھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ بہت ہی زیادہ پریشان حال تھیں۔ دکھ اور غم کے ساتھ صبح کی‘ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’اگر ہم اس کے دل پرگرہ نہ دے دیتے‘ اس کے دل کو سکون نہ دے دیتے تو وہ اپنا راز کھول ہی بیٹھتی یعنی وہ رو پڑتی اور لوگوں کو پتہ چل جاتا‘‘۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ان کو ربط قلوب عطا فرمایا۔ انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ جاؤ اور اپنے بھائی کا پتہ کر کے آؤ۔

چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کی بہن بھاگی گئی۔ انہوں نے فرعون کے محل میں جا کر دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام گود میں لیٹے ہوئے ہیں۔ عورتیں ان کو دودھ پلانے کی کوشش کر رہی ہیں اور وہ دودھ نہیں پی رہے اور فرعون بہت پریشان ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن نے فرعون سے کہا: ’’کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کے بارے میں نہ بتاؤں کہ جو اس بچے کو دودھ پلائیں گے وہ اس کی پرورش کریں گے اور اس کے بڑے خیرخواہ ہوں گے‘‘۔ جب اس نے یہ کہا کہ وہ اس کے بڑے خیرخواہ ہوں گے تو فرعون کو بات کھٹک گئی۔ چنانچہ وہ کہنے لگا‘ اچھا کیوں خیرخواہ ہوں گے؟

وہ بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن تھی اس لئے نہایت سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہنے لگی کہ ہم آپ کی رعایا ہیں اگر ہم ہی خیرخواہی نہیں کریں گے تو پھر آپ کی خیرخواہی کون کرے گا؟ فرعون کہنے لگا ہاں بات تو ٹھیک ہے اچھا جاؤ جس کو چاہو بلا کر لاؤ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن دوڑتی ہوئی گھر آئی اور کہنے لگی‘ امی! چلیں بھائی دودھ نہیں پی رہا۔ چنانچہ آپ کی والدہ آئیں۔ انہوں نے دودھ پلانا شروع کر دیا اور بچے نے دودھ پینا شروع کر دیا۔ فرعون بہت خوش ہوا کہ چلو پریشانی ختم ہو گئی۔ انہوں نے تین دن محل میں دودھ پلایا اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے کہا کہ میں تو اپنے گھر میں جا کر رہوں گی۔

مجھ سے محل میں نہیں رہا جاتا۔ فرعون کہنے لگا اچھا پھر تم اپنے اس بچے ک وبھی ساتھ لے جاؤ۔ اپنے گھر جا کر تم اس کو دودھ پلاتی رہنا۔ میں نے خزانے سے تمہاری تنخواہ مقرر کر دی ہے۔ لہٰذا میں ہر مہینے تمہاری تنخواہ بھیج دیا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’ہم نے اسے لوٹا دیا اس کی ماں کے پاس تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں مانتے‘‘۔

نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرح اللہ تعالیٰ کے وعدے پر بھروسہ کرے گا‘ اللہ تعالیٰ اسے دوگنا انعام دیں گے۔ صحابہ کرامؓ نے پوچھا‘ اے اللہ کے نبیﷺ دوگنا انعام کیسا؟ فرمایا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کو دیکھو کہ وہ اپنے بیٹے کو دودھ پلاتی تھی اور اسے خزانے سے تنخواہ بھی ملا کرتی تھی۔



کالم



شرطوں کی نذر ہوتے بچے


شاہ محمد کی عمر صرف گیارہ سال تھی‘ وہ کراچی کے…

یونیورسٹیوں کی کیا ضرروت ہے؟

پورڈو (Purdue) امریکی ریاست انڈیانا کا چھوٹا سا قصبہ…

کھوپڑیوں کے مینار

1750ء تک فرانس میں صنعت کاروں‘ تاجروں اور بیوپاریوں…

سنگ دِل محبوب

بابر اعوان ملک کے نام ور وکیل‘ سیاست دان اور…

ہم بھی

پہلے دن بجلی بند ہو گئی‘ نیشنل گرڈ ٹرپ کر گیا…

صرف ایک زبان سے

میرے پاس چند دن قبل جرمنی سے ایک صاحب تشریف لائے‘…

آل مجاہد کالونی

یہ آج سے چھ سال پرانی بات ہے‘ میرے ایک دوست کسی…

ٹینگ ٹانگ

مجھے چند دن قبل کسی دوست نے لاہور کے ایک پاگل…

ایک نئی طرز کا فراڈ

عرفان صاحب میرے پرانے دوست ہیں‘ یہ کراچی میں…

فرح گوگی بھی لے لیں

میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں‘ فرض کریں آپ ایک بڑے…

آئوٹ آف دی باکس

کان پور بھارتی ریاست اترپردیش کا بڑا نڈسٹریل…