اتوار‬‮ ، 11 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان میں ایڈز پھیلنے کی شرح تشویشناک حد تک پہنچ گئی، طبی ماہرین

datetime 1  دسمبر‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی)پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایچ آئی وی وائرس/ ایڈز کا عالمی دن(آج)یکم دسمبر کو منایا جائے گا۔ دنیا بھر میں ایچ آئی وی وائرس/ ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں کمی جبکہ پاکستان میں ایچ آئی وی وائرس/ ایڈز کے مریضوں میں 75 فیصد ہولناک اضافہ ہوا ہے۔یہ اضافہ 2010 سے 2019 کے درمیان ہوا۔ پاکستان میں ہر سال 25 ہزار نئے مریض رپورٹ ہورہے ہیں۔

بھارت سمیت دنیا بھر ایچ آئی وی وائرس/ ایڈز میں 32 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ایمررو ریجن EMRO میں 21 ممالک شامل ہیں، ان ممالک میں پاکستان میں سب سے زیادہ ایچ آئی وی وائرس/ ایڈز کے مریض موجود ہیں جبکہ بھارت سمیت دنیا بھر میں ایچ آئی وی وائرس/ ایڈز کے مریض میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہ بات بدھ کو کراچی پریس کلب میں پاکستان انفیکشن کنٹرول سوسائٹی کے صدر پروفیسر محمد رفیق خانانی، سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے سابق ڈائریکٹر اور بریج فائنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر شرف علی شاہ، ڈاکٹر منہاج قدوائی اور ڈاکٹر بشری جمیل نے ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر پریس بریفنگ میں کہی۔ماہرین نے کہاکہ پاکستان میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 10 ہزار جس میں سے 41ہزار خواتین، 1لاکھ 70 ہزار مرد اور 4,600 بچے شامل ہیں۔ ماہرین نے کہاکہ لاڑکانہ میں 2019 میں غیر محفوظ انتقال خون اور سرنجوں کے دوبارہ استعمال کرنے کی وجہ سے ایچ آئی وی/ایڈز کی وبا پھوٹی جس نے دنیا بھر میں ہل چل مچادی جس کے بعد سندھ میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

لاڑکانہ میں پھیلنے والی وبا کے دوران 1500 سے زائد بچے بھی ایچ آئی وی وائرس سے متاثرہ ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں 50 ہزار ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ مریض اپنی بیماری سے متعلق لاعلم ہیں جو اس مرض کے پھیلا کا سبب بن رہے ہیں۔ پروفیسر رفیق خانانی کا کہنا تھا کہ پچھلے سال دنیا بھر میں ہر دو منٹ میں ایک شخص ایچ آئی وی سے متاثر ہوا اور ہر منٹ میں ایک شخص ایڈز کی وجہ سے ہلاک ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرنجوں کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد کی تعداد 35 فیصد جبکہ خواتین سیکس ورکرز میں 30 فیصد اور ٹرانس جینڈر میں 14 فیصد افراد اس وائرس کا شکار ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پھچلے 34 سالوں سے ہم اس مرض کی روک تھام میں ناکام ہیں۔حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے اس مرض میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

ڈاکٹر سید شرف علی شاہ نے بتایا کہ پوری دنیا میں تقریبا38.4 ملین افراد ایچ آئی وی ایڈزکے مرض کا شکار ہیں۔ گذشتہ سال ایچ آئی وی ایڈزسے 6 لاکھ 50 ہزار اموات ہوئیں۔ دنیا بھر میں 2010 سے 2020 کے درمیان ایچ آئی وی ایڈزکے مرض میں کمی آئی جبکہ پاکستان میں یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ واضع رہے کہ ایچ آئی وی ایڈز کا مرض غیر محفوظ انتقال خون، سرنجوں کے دوبارہ استعمال کرنے، الودہ استرے، الودہ بلیڈ کی وجہ سے پھیلتا ہے جبکہ جنسی بے راہ روی بھی اس وائرس کے پھیلا کا سبب ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…