جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بیک ڈور رابطے جاری ہیں ٗ عمران خان کا اعتراف

datetime 18  اکتوبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ بیک ڈور رابطے جاری ہیں، سیاسی جماعتیں کھبی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرتیں۔ ایک انٹرویرومیں عمران خان نے کہا کہ گھر کے ملازمین کو رشوت دے کر میرے گھر کی معلومات لینے کی کوشش کی گئی، میڈیا اورسوشل میڈیا پرمیرے اور فیملی کے کردارپر کیچڑاچھالا گیا۔

ان چھ ماہ کے دوران میرے خلاف جس قسم کے ایکشن لیے گئے نہیں سمجھتاتھا ایسا بھی ہوگا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اعظم سواتی اورشہباز گل پر برہنہ کرکے تشدد کیا گیا کبھی ایسانہیں سوچاتھا،ملک میں ہم نے لوگوں کیساتھ ایسا ہی سلوک کرناہے تو کیا کہہ سکتاہوں؟انہوں نے کہا کہ میں نے آزادممالک کو دیکھاہے وہاں کسی کی جرات نہیں شہریوں سے ایسا سلوک کرے۔عمران خان نے کہا کہ ہمیں ملک کو ان چوروں کی غلامی سے بچاناہے، میں اپنی جان دے دوں گا تاہم ان چوروں کو کبھی قبول نہیں کروں گا، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اسی طرح ملک چلتا رہیگا تو اب ایسا نہیں ہوگا، عوام کاسمندر نکلے گا ان کے پاس الیکشن کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔سابق وزیراعظم نے سائفر سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خط میں لکھا ہے کہ عمران خان اپنی مرضی سے روس چلا گیا، سائفرمیں ہے کہ عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو ہٹایا، اسی خط میں لکھا ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو پاکستان کو معاف کردینگے۔

عمران خان نے اہم نقطہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ عدم اعتماد آئی نہیں تھی اورسائفر میں لکھا تھا کہ تحریک آئیگی مطلب یہ سازش کاحصہ تھے، اسپیکر نے اس وقت کی اپوزیشن کو سائفر دکھایا اور کہا کہ آپ لوگ بیرونی سازش کاحصہ بن رہ یہیں، ان لوگوں نے سائفر دیکھنے سے ہی انکارکردیا، یہ لوگ سائفرہی نہیں دیکھناچاہتے تھے کیونکہ ان کو پتہ تھا کیاہو رہاہے؟

سابق وزیراعظم نے کہاکہ اس وقت پاکستان کا مفاد فوری الیکشن ہے،جس سے سیاسی استحکام آئیگا،اس وقت پاکستان کی معیشت تیزی سے نیچے جارہی ہے کیونکہ سیاسی عدم استحکام ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت عام انتخابات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، حالیہ نتائج کے بعد آصف زرداری اورنوازشریف الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں، وہ الیکشن نہیں کرانا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی میں اچھے اور برے دونوں دوست ملے، ماضی میں نہیں دیکھتا، ماضی کے واقعات کوسیکھ کرآگے جاتاہوں۔عمران خان نے کہا کہ میری نوازشریف یا آصف زرداری سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے،میں یہ چاہتاہوں ہم ماضی سے سیکھیں اور آگے بڑھ کرملک کوبچائیں۔عمران خان نے شریف خاندان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ سارا ٹبراس وقت ایسے باہربیٹھے ہیں جیسے ان کی ملکہ برطانیہ کی رشتہ داری تھی، یہ لوگ لندن کے اس علاقے میں رہتے ہیں جہاں آج برطانوی وزیراعظم گھرنہیں خرید سکتا، آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ لندن کے مہنگے ترین بنگلے کیسے خریدے؟۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…