جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

میں نے کوئی سیاسی بیان نہیں دیا، اسد عمر کی تنقید پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا موقف آ گیا

datetime 15  جون‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

راولپنڈی (آن لائن) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ میں نے کسی قسم کا سیاسی بیان نہیں دیا، کمیٹی اجلاس میں واضح کردیاگیاتھاکہ سازش کے کوئی ثبوت نہیں، خط کے معاملے پر حکومت جوڈیشل

کمیشن یا اور کوئی فورم بنائے تو ادارے تعاون کریں گے۔ ایک انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں تمام سروسز چیفس نے اپنا مؤقف واضح طور پر بتادیا تھا، کسی سروس چیف نے یہ نہیں کہا کہ سازش ہوئی۔ نیشنل سکیورٹی میٹنگ کا ایجنڈا پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس سے متعلق گزشتہ روز بھی تفصیلی بات کی تھی۔ خط کے معاملے پر حکومت جوڈیشل کمیشن یا اور کوئی فورم بنائے تو ادارے تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کسی قسم کا سیاسی بیان نہیں دیا، میں نے سروسز چیف کے توسط سے وضاحت دی، سروسز چیف سے متعلق بات ہو تو میرا خیال ہے کہ میں ہی اس کی وضاحت کروں گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب سے واضح کردیا تھا، واضح کردیا تھاکہ سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا، یہ صرف ایک وضاحت تھی اور اس کا سیاست سے تعلق نہیں تھا، نیشنل سکیورٹی کمیٹی (این ایس سی) کی میٹنگ ملک کا اعلیٰ سطح کا فورم ہے، اس میں میں سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی اپنی اِن پٹ لے کر جاتے ہیں سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی کی اِن پٹ انٹیلی جنس بیسڈ انفارمیشن ہوتی ہے، ذاتی رائے نہیں، یہ رائے نہیں تھی انٹیلی جنس بیسڈ انفارمیشن تھی،حقائق دیکھ کر اِن پٹ دی گئی۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سازش کا لفظ یا ایسی کوئی چیز این ایس سی میٹنگ اعلامیے

میں بھی شامل نہیں کی گئی، یہ رائے نہیں کہی جاسکتی یہ واضح طور پر بریف کیا گیا تھا۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ اس معاملے پر جوڈیشل کمیشن یا کوئی اور فورم جس کا حکومت فیصلہ کرے، ادارے مکمل تعاون کریں گے، جو کچھ انہیں اداروں سے چاہیے وہ کرکے دیں گے، ایجنسیز اور ادارے اپنی ان پٹ ہائی لیول پر پہلے ہی دے چکے ہیں، ایجنسیز اور اداروں نے اپنی ان پٹ ایک دفعہ نہیں دو دفعہ اعلیٰ سطح پر دی ہے، اسے جیسے بھی وہ اپنی تسلی کیلئے لیجانا چاہتے ہیں یہ ان پر ہے، فیصلہ ہم نے نہیں کرنا، میں نے اپنے ادارے کا مؤقف تفصیل سے بیان کردیا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…