اتوار‬‮ ، 17 مئی‬‮‬‮ 2026 

اپنے بیٹے کو فلموں میں لانا چاہتی ہوں بھاگیہ شری‎

datetime 9  مارچ‬‮  2015 |

ممبئی(نیوز ڈیسک) راج شری پروڈکشن کے بینر تلے بنی فلم ’’میں نے پیار کیا ‘‘ اسے بالی ووڈ کو بھاگیہ شری کے طور پر ایک ایسا معصوم اور خوبصورت چہرہ ملا جسے بار بار دیکھنے کی تمنا ناظرین کو بے صبری سے رہتی تھی۔ بھاگیہ شری کی یہ پہلی ہی ایسی فلم ثابت ہوئی جس نے ان کو راتو ں رات فلمی افق پر چمکتے ستارے کی طرح قائم کر دیا۔ جس کی چمک کے دائرے میں ناظرین کا ایک بہت بڑا نوجوان طبقہ سما گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ بھاگیہ شری کا جادو پہلے ہی پائیدان پر قدم رکھتے ہی لوگوں پر کافی اثر گیا اور ناظرین کی آنکھیں بھاگیہ شری کے دیدار میں ہمیشہ لگی رہتیں تھی۔ بھاگیہ شری کے تئیں لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوئی چاہت اورمحبت پر بھاگیہ شری کی ضد نے بریک لگا دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس قدر راتوں رات لوگوں کے دلوں میں سمائی تھی اس تیز سے وہ بڑے پردے سے غائب بھی ہو گئیں۔ فلمی دنیامیں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جس کا جادو ایک بار اتر جائے تو پھر دوبارہ چڑھ پانا آسان نہیں ہوتا ۔ یہی بھاگیہ شری کے معاملے میں بھی دیکھنے کو ملا ۔ بھاگیہ شری کی پہلی فلم ’’میں نے پیار کیا‘‘ میں ان کے ہیرو تھے سلمان خان نے یہ فلم کر کے جہاں سلمان خان آگے بڑھتے ہوئے بالی ووڈ کے دبنگ ہیروئن گئے وہیں بھاگیہ شری کا کئیرئر ان کی ایک ضد کی وجہ سے ٹھہر گیا ۔ دراصل بھاگیہ شری نے اپنی پہلی ہی فلم کے بعد اپنے بچپن کے دوست ہمالیہ داسانی کے ساتھ شادی کرلی اور انہوں نے ضد پکڑ لی کہ جس فلم میں وہ کام کریں گی اس میں ان کے شوہر ہمالیہ داسانی بھی ہوں گے۔ یہ بات ڈائریکٹر وں ‘پروڈیوسروں کو بھلا کہاں اچھی لگنے والی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے ہاتھ سے فلمیں نکلتی گئیں۔ اگرچہ اس وقت کافی خوبصورت اور ان کا چہرہ معصوم تھا اور ان میں گلیمر بھی کافی تھا اس لیے کچھ ڈائریکٹر ز ‘پروڈیوسرز نے ان کو لے کر فلمیں بنائی تھی لیکن وہ تمام فلمیں ناکام رہیں۔ انہوں نے شوہر کے ساتھ 1992میں تین فلمیں قید میں ہے ’’بلبل‘‘تیاگی اور پائل کی جو منظر عام پر آئیں لیکن یہ فلمیں فلاپ ہوئیں ۔ ان تمام فلموں کے فلاپ اور اپنے گرتے فلمی کیرئیر کے گراف کو دیکھتے ہوئے بھاگیہ شری نے اپنی ضد کو چھوڑ دیا اور اوناش وداھاون کے ساتھ 1993میں گھر آیا میرا پردیسی فلم میں کام کیا۔ یہ ان کی نوے کی دہائی کی آخری فلم تھی ۔ لیکن اب تک ناظرین پر چڑھا ان کا جادو اتر چکا تھا۔ اس کا خمیازہ بھاگیہ شری کو اٹھانا پڑاکیونکہ اب کافی دیر ہو چکی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…