منگل‬‮ ، 16 جون‬‮ 2026 

موت کے بعد روح زندہ رہتی ہے یا سب کچھ ختم ہوجاتا ہے؟

datetime 2  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) موت کے بعد روح زندہ رہتی ہے یا سب کچھ ختم ہوجاتا ہے یہ بحث اتنی ہی پرانی ہے جتنی کے انسانی تاریخ۔ سائسندان مدتوں سے اس سوال کا جواب تلاش کررہے تھے اور بالاآخر جرمنی کے ماہرین نفسیات اور محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے تجربات سے ثابت ہوگیا ہے کہ موت کے بعد بھی زندگی جاری رہتی ہے اگرچہ اس کی نوعیت ہماری دنیا کی زندگی سے مختلف ہوتی ہے۔
یہ تجربات جرمن کی ٹیکناچی یونیورسٹیٹ ( Techniche Universtiat ) میں کارڈیو پلونری ریسی ٹیشن مشین کی مددسے کیے گئے جن میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے 944 افراد نے رضاکارانہ طور پر شرکت کی۔ تجربات میں شامل افراد کو ادویات کی مدد سے 20 منٹ کے لیے کلنیکلی موت کی کیفیت میں پہنچایا گیا۔ یہ کیفیت ایسے ہی ہے جیسے کسی کی حقیقی موت واقع ہوجائے لیکن اس کی خاص بات ہے کہ سی پی آر مشین اور ادویات کی مدد سے ان کی زندگی دوبارہ بحال کی جاسکتی ہے۔تجربات میں شامل سب افراد نے ملتے جلتے قریب المرگ تجربات بیان کیے جن میں اوپر اٹھ جانے بہت سکون اور راحت محسوس ہونے اور جسم مردہ ہونے کے باوجود سب احوال کا مشاہدہ کرنے کی کیفیات شامل ہیں۔ تحقیق کے سربارہ ڈاکٹر برتھولڈایکرمین کا کہناتھا کہ ان تجربات نے ثابت کردیا ہے کہ جسم مردہ ہونے سے زندگی کا اختتام نہیں ہوتا بلکہ انسان ایک لطیف حالت اور کیفیت میں چلاجاتا ہے اور ایک نئی زندگی کا آغاز ہوجاتا ہے۔



کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…