جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

اچھی کتابیں پڑھنے سے بچوں کی ذہنی ،جسمانی صحت کوتقویت ملتی ہے ،تحقیق

datetime 3  اگست‬‮  2015 |

لندن (نیوزڈیسک )ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی اچھی کتاب میں غرق ہوجانے سے لوگ ایک دوسرے کی صلاحیت سے خود کو جوڑتے ہیں اور ان کی احساس ہم آہنگی میں اضافہ ہوتا ہے۔دا ریڈینگ ایجنسی کی تحقیق کے ایک جائزے میں کہا گیا ہے بچوں اور بالغوں دونوں میں خوشی کے لیے مطالعے کرنے سے تعلیمی نتائج سے کہیں زیادہ حاصل ہوتا ہے۔برطانیہ کے چار ہزار بالغوں پر مبنی اس حالیہ مطالعے میں کہا گیا ہے کہ خوشی، سرور، حظ یا لطف حاصل کرنے کے لیے کتابوں کا مطالعہ کرنے والے سماجی تقریبات سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس سے بچوں میں جذبات و احساسات کی سمجھ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔مجموعی طور پر اس تحقیق میں یہ پایا گیا ہے کہ مطالعے کا تعلق، سرور حاصل کرنے، سکون پانے یا راہ فرار اختیار کرنے سے ہے۔اس میں یہ بھی پتہ چلا کہ لڑکیوں کے مقابلے لڑکے کسی لفظ کے پوشیدہ معانی سے زیادہ مثبت طور پر متاثر ہوئے تحقیق میں اس بات پر نظر رکھی گئی ہے کہ ذوق و شوق سے کیا جانے والا مطالعہ کس طرح ذہنی اور جسمانی صحت کو تقویت پہنچاتا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے جو لوگ عموما لطف اندوز ہونے کے لیے پڑھتے ہیں:

ان میں تنا اور پژمردگی (ڈپریشن) پیدا ہونے کے امکان کم ہوتا ہے،
ان میں زیادہ خودداری یا خود پسندی ہوتی ہے،
وہ مشکل حالات سے نمٹنے کے زیادہ اہل ہوتے ہیں،
ان کی نیند کا معمول بہتر ہوتا ہے
۔اس میں سات سے نو سال کے بچوں پر مبنی جرمنی میں ہونے والے ایک مطالعے کا بھی ذکر ہے جس میں خواندگی اور جذبات و احساسات کی سمجھ کے درمیان ممکنہ رشتوں پر نظر ڈالی گئی ہے۔
مطالعے سے خودپسندی اور راہ فرار اختیار کرنا بھی منسلک ہے ۔اس رپورٹ میں سکول کے بعد بچوں کو جذباتی موضوعات والی بچوں کی کتابیں پڑھ کرسنائی گئیں اور پھر ان پر بات کی گئی۔اس میں یہ پایا گیا کہ اس سے بچوں کی جذباتی لفظیات، معلومات اور فہم و ادراک میں اضافہ ہوا۔اس میں یہ بھی پتہ چلا کہ لڑکیوں کے مقابلے لڑکے کسی لفظ کے پوشیدہ معانی سے زیادہ مثبت طور پر متاثر ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا: ہمیں اپنی شناخت کی فہم و ادراک میں اضافے سے مطالعے کا قریبی تعلق ہے اور یہ دوسروں کے نظریات کو سمجھنے میں بھی بہت اہم رول ادا کر سکتا ہے۔دا ریڈینگ ایجنسی کے چیف ایگزیکٹیو سو ولکنسن نے کہا کہ رپورٹ کے نتائج بتاتے ہیں کہ جب ہم پڑھتے ہیں تو ہرچیز بدل جاتی ہے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…